پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما عمر ایوب خان نے پارٹی کی نئی تشکیل شدہ سیاسی کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے باضابطہ طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ عمر ایوب خان نے یہ بات سیاسی کمیٹی کے سربراہ بیرسٹر سلمان اکرم راجا کو لکھے گئے خط میں کہی۔
مزید پڑھیں: عمر ایوب 4 اکتوبر احتجاج کیس میں اشتہاری قرار، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں عمر ایوب خان نے واضح کیا کہ وہ اب نہ تو رکنِ پارلیمنٹ ہیں اور نہ ہی پی ٹی آئی کے کسی عہدے پر فائز ہیں، اس لیے ان کا سیاسی کمیٹی میں شامل ہونا پارٹی کے طے شدہ معیار کے خلاف ہے۔ انہوں نے یاددہانی کروائی کہ وہ پہلے اجلاس میں بھی اپنی معذوری کا اظہار کر چکے تھے۔
Dear Barrister Salman Akram Raja sahib.
1. I am most grateful to you for including my name in the newly constituted Political Committee despite my request not to include my name as I am no longer a member of parliament or an office holder of PTI.
2. I would once again humbly…— Omar Ayub Khan (@OmarAyubKhan) January 28, 2026
عمر ایوب خان نے کہا کہ ان کے خلاف متعدد فوجداری اور دیوانی مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جس کے باعث وہ سیاسی کمیٹی کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی کمیٹی کی رکنیت صرف موجودہ عہدہ داروں تک محدود ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: عمر ایوب اور شبلی فراز نااہلی کیسز کی سماعت، مدعیوں نے 3 درخواستیں واپس لے لیں
عمر ایوب خان نے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف نامزد ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سفارش کی کہ انہیں سیاسی کمیٹی میں شامل کیا جائے تاکہ وہ عمران خان کی ہدایات کے مطابق قومی اسمبلی کے اندر اور باہر پارٹی ایجنڈے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکیں۔
عمر ایوب خان نے اپنے خط کو سیاسی کمیٹی سے باضابطہ استعفیٰ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی میں بھی عمران خان کے کارکن تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ انہوں نے مشکل حالات میں پارٹی قیادت کے لیے نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار بھی کیا۔














