بلیک مون ایک نایاب قمری مظہر ہے جسے رسمی طور پر فلکیاتی اصطلاح نہیں بلکہ عوام میں مقبول نام دیا گیا ہے۔ بلیک مون دراصل نیو مون کے دوران وقوع پزیر ہوتا ہے، جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے۔ اس وقت چاند کی روشن جانب زمین کی طرف نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے یہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔
یہ بھی پڑھیں: 23 اگست کو نایاب فلکیاتی مظہر بلیک مون رونما ہوگا
یہ مظہر عام طور پر ہر 29 ماہ بعد رونما ہوتا ہے اور بلیو مون کے برعکس، ایک ہی کیلنڈر مہینے میں دوسری نیو مون کو بلیک مون کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات، اگر کسی موسم میں چار نیو مون آ جائیں، تو تیسرے نیو مون کو بلیک مون قرار دیا جاتا ہے۔
نیو مون کے دوران چاند مکمل طور پر سیاہ نظر آتا ہے، کیونکہ وہ سورج کے اسی حصے سے گزرتا ہے جس سے اس کا غیر روشن رخ زمین کی جانب ہوتا ہے۔ تاہم، سورج غروب ہونے کے تقریباً 30 سے 40 منٹ بعد مغربی آسمان میں ہلکی سی ہلالی شکل واضح ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے افق پر ’گلابی چاند‘ بآسانی کب دیکھا جاسکے گا؟
ماہرین کے مطابق اگلا بلیک مون 31 اگست 2027 کو نظر آئے گا، جو آسمان میں نایاب اور دلچسپ مناظر کا سبب بنے گا، اس سے قبل 23اگست 2025 کو بلیک مون نمودار ہوا تھا۔
یہ مظہر فلکیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے اور رات کے آسمان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔














