ناسا کے سائنسدان زمین کے ایک قدیم راز کو حل کرنے کے لیے چاند کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ زمین پر پانی کیسے آیا؟
یہ بھی پڑھیں: چاند پر اپنا نام بھیجیں، طریقہ کار ہم بتاتے ہیں
امریکی خلائی ایجنسی کی نئی تحقیق میں اپولو مشنز کے دوران جمع کی گئی چاند کی مٹی کا مطالعہ کیا گیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ میٹیورائٹس (آسمانی پتھروں) کے ذریعے زمین پر پانی کب اور کتنی مقدار میں آیا ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں چاند کی گردی آلود سطح (لونی رِیگولیت) کا مطالعہ کیا گیا جو اربوں سال سے مختلف اثرات کو محفوظ رکھتی ہے۔
زمین کے برعکس چاند پر موسمی یا زمین کی حرکیات کی وجہ سے یہ معلومات ضائع نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیے: چاند پر دوسرے قدم کی تیاریاں، ناسا کا دیوہیکل راکٹ لانچنگ پیڈ پر پہنچ گیا
تحقیق کی قیادت ناسا کے پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچر ٹونی گارگانو نے کی جو ہاؤسٹن میں جانسن اسپیس سینٹر اور لونیئر اینڈ پلانٹری انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہیں۔ ٹیم نے اپولو مشنز سے حاصل شدہ چاند کی مٹی کے نمونوں کا مطالعہ کیا اور ٹرپل آکسیجن آئسوٹوپس کے طریقے سے میٹیورائٹس کی شناخت کی۔ یہ طریقہ ایک فنگر پرنٹ کی طرح کام کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ چاند پر کس قسم کے آسمانی پتھر لگے۔
تحقیق میں پایا گیا کہ چاند کی سطح کے کم از کم ایک فیصد مواد کاربن سے بھرے میٹیورائٹس سے آیا جو پانی رکھتے تھے۔ تاہم زمین پر زیادہ اثرات کے حساب سے نتیجہ یہ نکلا کہ میٹیورائٹس کے ذریعے آنے والا پانی زمین کے موجودہ پانی کی مقدار کے لیے کافی نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: ’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا
ناسا کے سیاروی سائنسدان اور تحقیق کے شریک مصنف جسٹن سائمن کے مطابق یہ نتائج یہ امکان ختم نہیں کرتے کہ میٹیورائٹس کے ذریعے پانی زمین تک آیا ہو۔ تاہم تحقیق نے ظاہر کیا کہ زمین پر دیر سے آنے والے میٹیورائٹس زمین کے پانی کا بنیادی ذریعہ نہیں ہو سکتے۔














