پاکستان نے تمام داخلی راستوں پر مسافروں کی سخت اسکریننگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نپاہ وائرس کی سرحد پار سے منتقلی کو روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کورونا کے بعد نپاہ نامی جاں لیوا وائرس: ہائی الرٹ جاری
نپاہ وائرس پھل کھانے والے چمگادڑوں اور سور جیسے جانوروں کے ذریعے پھیلتا ہے اور انسانوں میں دماغی بخار اور مہلک انفیکشن پیدا کر سکتا ہے۔
یہ وائرس انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے اعلی ترجیح کا پیتھوجن قرار دیا ہے کیونکہ اس کی ہلاکت کی شرح 40 فیصد سے 75 فیصد تک ہے اور اس کا کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔
پاکستان کی طرف سے یہ اقدامات اسی وقت کیے گئے ہیں جب سنگاپور، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ اور ملائیشیا نے بھی بھارت میں پائے گئے 2 کیسز کے بعد حفاظتی اقدامات کیے۔
کیا ہدایات دی گئی ہیں؟
تمام داخلی راستوں، بین الاقوامی ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر 100 فیصد مسافروں، عملے، ڈرائیورز اور مددگار عملے کی اسکریننگ لازمی ہوگی۔
ہر مسافر کی پچھلے 21 دنوں کی سفر کی تفصیلات اور ملکِ مبدأ کی جانچ لازمی ہوگی۔
نپاہ متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والے مسافروں پر خصوصی نگرانی ہوگی۔ کسی بھی جھوٹی یا ناقص اطلاع دینے والے کی رپورٹ متعلقہ حکام کو کی جائے گی۔
مزید پڑھیے: برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے 24 ترجیحی پیتھوجینز کی تیاری کی ہدایت کردی
اس کے علاوہ مسافروں کی تھرمل اسکریننگ اور طبی جانچ بھی کی جائے گی۔ اسکریننگ اسٹاف کو بخار، سر درد، سانس کی علامات اور اعصابی علامات جیسے الجھن یا بے ہوشی پر خاص توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مشتبہ مریض کو فوری طور پر الگ تھلگ کر کے انفیکشن کنٹرول پروٹوکول کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور متعلقہ سواری و اطراف کے علاقے کو جراثیم سے پاک کیا جائے گا۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے بھی صحت کے اداروں اور طبی عملے کے لیے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں تاحال کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تاہم جنوبی ایشیا میں صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔
الرٹ کا مقصد بروقت تشخیص، مریضوں کو الگ رکھنے، نمونوں کی محفوظ ترسیل اور ہنگامی ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت میں مہلک وائرس پھیل گیا، ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 شدید خطرات سے دوچار
ماہرین کے مطابق نپاہ وائرس کی علامات میں بخار، دورے اور دیگر اعصابی مسائل شامل ہیں جبکہ یہ وائرس سانس، لعاب اور خون کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔ ماہرین نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حکومتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔














