لاہور، سیوریج لائن میں گرنے والی ماں اور بچی کی لاشیں برآمد، تحقیقات کا آغاز

جمعرات 29 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ اور سگیاں کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون اور اس کی کمسن بچی کی لاشیں ریسکیو آپریشن کے بعد برآمد کر لی گئیں، جبکہ واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔

لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی 24 سالہ خاتون سعدیہ کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد کر لی گئی تھی، جبکہ اس کی 9 ماہ کی بچی رعد کی لاش 17 سے 18 گھنٹے کی مسلسل تلاش کے بعد سگیاں کے علاقے سے نکال لی گئی۔ ریسکیو 1122 کے مطابق دونوں لاشیں علیحدہ علیحدہ مقامات سے ملیں۔

یہ بھی پڑھیے:لاہور میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کی اطلاع جھوٹ نکلی

ریسکیو ذرائع نے بتایا تھا کہ متاثرہ خاندان سیر و تفریح کے لیے لاہور آیا تھا۔ اہلِ خانہ پہلے مینارِ پاکستان گئے تھے اور بعد ازاں داتا دربار پہنچے تھے۔ اسی دوران سعدیہ اپنی کمسن بچی کے ساتھ سیوریج لائن کی منڈیر پر بیٹھی تھیں کہ دونوں اچانک نیچے گر گئی تھیں۔

ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو شام 7 بج کر 32 منٹ پر ماں اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئی تھیں۔ طویل آپریشن کے بعد پہلے خاتون اور پھر بچی کی لاش تلاش کر لی گئی۔ سرچ و ریسکیو آپریشن کی نگرانی ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو شاہد وحید قمر کر رہے تھے۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے بچی کے والد اور رکشہ ڈرائیور کو حراست میں لے لیا تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد کو تشدد کے بغیر صرف تفتیش اور سوال و جواب کے لیے حراست میں رکھا گیا تھا، جبکہ تحقیقات کا عمل جاری رکھا گیا تھا تاکہ واقعے کی اصل وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سخت نوٹس لیا تھا اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین، پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو غفلت اور کوتاہی پر معطل کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ابتدائی طور پر داتا دربار کے سامنے ماں اور بچی کے مین ہول میں گرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ریسکیو 1122 کی جانچ پڑتال کے بعد ایسا کوئی واقعہ پیش آنے کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ تاہم بعد ازاں خاتون اور بچی کی لاشیں ملنے سے صورتحال واضح ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ مریم نواز کا لودھراں میں بچے کے مین ہول میں گرنے پر غم و غصہ، ڈپٹی کشمنر کو ہٹانے کا حکم

افسوسناک امر یہ ہے کہ  ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ظہیر اقبال چنڑ نے لاہور بھاٹی گیٹ واقعے کو ماں بیٹی کی لاشیں ملنے کے بعد بھی فیک نیوز قرار دے دیا۔

ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، تاہم اطلاع ملتے ہی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور چند ہی منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔ لاہور انتظامیہ کے مطابق سیوریج لائن کا معائنہ بھی کیا گیا تھا اور تحقیقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈپریشن اور انگزائٹی خواتین کو بیماری کے خطرے کے قریب لے جا رہی ہیں

عمران خان کے آنکھوں کے علاج سے متعلق ذاتی معالج ڈاکٹر خرم مرزا کا اہم بیان سامنے آ گیا

صدر زرداری کا قومی کرکٹ ٹیم کی فتح پر اظہارِ مسرت

برطانیہ: جنسی جرائم اور ڈکیتی کے کیسز میں تاریخی اضافہ

اداکارہ علیزے شاہ کا معروف گلوکارہ شازیہ منظور پر بے ایمانی کا الزام

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی