بنگلہ دیش کے ضلع شیرپور میں انتخابی سرگرمی کے دوران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے کارکنان کے درمیان ہونے والے تصادم میں جماعتِ اسلامی کے ایک سینیئر رہنما شدید زخمی ہونے کے بعد انتقال کر گئے، جس کے بعد ملک میں انتخابات سے قبل بڑھتے سیاسی تشدد پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
وی نیوز کے مطابق جماعتِ اسلامی کے مقامی رہنما مولانا رضا الکریم ضلع شیرپور کے علاقے ’جھینائی گاتی‘ میں پیش آنے والے تصادم کے دوران شدید زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے شیرپور-3 کے حلقے سے امیدواروں کے انتخابی منشور پڑھنے کی تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں نشستوں کے معاملے پر اختلافات جھگڑے میں تبدیل ہو گئے۔
Mohammad Rezaul Karim, secretary of Srivardi Upazila Jamaat, was martyred in a barbaric attack by BNP armed terrorists in Jhenaigati, Sherpur.
Despite killing more than 200 of their own people, the terrorists of Tariq, who is absconding from London, have not yet been able to… pic.twitter.com/wtTEMyVDNY
— Mohammad Anamul Hoque (@RussellAnamul) January 28, 2026
مولانا رضاالکریم جماعتِ اسلامی کی ’سری بردی اپازلا شاخ‘ کے سیکریٹری تھے اور فتح پور فاضل مدرسہ میں عربی کے لیکچرار بھی تھے۔ انہیں تشویشناک حالت میں میمن سنگھ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں دم توڑ گئے۔ پولیس کے مطابق انہیں رات 9 بج کر 35 منٹ پر اسپتال پہنچنے پر مردہ قرار دیا گیا، جس کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔

عینی شاہدین اور مقامی حکام کے مطابق تقریب کے دوران بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے حامیوں کے درمیان اگلی نشستوں پر بیٹھنے کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی، جو جلد ہی پرتشدد تصادم میں بدل گئی۔ اس دوران سینکڑوں کرسیاں اور کئی موٹر سائیکلیں توڑ دی گئیں جبکہ دونوں جماعتوں کے کم از کم 30 کارکن زخمی ہوئے۔
جماعتِ اسلامی کے شیرپور-3 سے امیدوار نورالزمان (بادل) نے فیس بک پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ حملہ بی این پی کے کارکنوں نے کیا، جس میں جماعتِ اسلامی کے 50 سے زائد کارکن زخمی ہوئے، جبکہ 3 کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بدعنوانی سے پاک بنگلہ دیش اور ترقی یافتہ بوگورا ہمارا ہدف ہے، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش
جماعتِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پروار نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تشدد کی شدید مذمت کی۔ اے بی پارٹی کے رہنماؤں نے بھی واقعے کو منظم سیاسی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ادھر جماعتِ اسلامی کی طلبہ تنظیم، اسلامی چھاترا شبِر نے واقعے کے خلاف ڈھاکا یونیورسٹی میں رات گئے احتجاج کیا اور مولانا رضاالکریم کے قتل پر انصاف کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ بنگلہ دیش میں آئندہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی اور انتخابی تشدد کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔














