امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان نئے آزاد تجارتی معاہدے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے یورپی قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے معاملے میں اپنے مؤقف کو کمزور کر رہی ہے اور جغرافیائی سیاست کے بجائے معاشی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیںصدر ٹرمپ بھارت سے بدظن کیوں ہوئے؟ امریکی اخبار نے بھید کھول دیا
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک یوکرین۔روس جنگ کے محاذ پر ہونے کے باوجود ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو بالواسطہ طور پر روسی معیشت کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روسی تیل پر پابندیوں کے بعد بھارت نے سستا روسی خام تیل خریدا اور یورپ نے اسی تیل سے تیار شدہ مصنوعات خریدیں، جس سے جنگ کی مالی معاونت ہوئی۔

بیسنٹ کے مطابق امریکا نے روسی تیل خریدنے پر بھارت پر ٹیرف عائد کیا، مگر یورپی ممالک نے ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو جب بھی یوکرین کی حمایت کی بات کرتے سنا جائے تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس نے تجارت کو جنگ کے خاتمے پر ترجیح دی۔
یورپی یونین اور بھارت کے درمیان یہ معاہدہ حالیہ برسوں کے بڑے تجارتی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے، تاہم واشنگٹن میں اسے یورپ کی بدلتی ترجیحات اور پیچیدہ سفارتی حکمتِ عملی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔














