امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کا سفر کرنے کے خواہش مند امریکی شہریوں کو اپنے منصوبوں پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ انتباہ 26 جنوری کو جاری کی گئی ٹریول ایڈوائزری اپ ڈیٹ میں دیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق پاکستان میں جرائم، سول بدامنی، دہشتگردی، اغوا کے خطرات کے باعث امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے کیا واشنگٹن ایران کے خلاف غیر محفوظ راستے پر قدم رکھنے والا ہے؟
پاکستان لیول تھری کیٹیگری میں شامل
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کو لیول 3 (Reconsider Travel) کیٹیگری میں رکھا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہاں سیکیورٹی کے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور دہشتگرد حملے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہو سکتے ہیں۔
ممکنہ اہداف کون سے مقامات ہو سکتے ہیں؟
ایڈوائزری کے مطابق دہشتگرد حملوں کے ممکنہ اہداف میں ٹرانسپورٹ کے مراکز، ہوٹلز اور مارکیٹس، شاپنگ مالز، فوجی اور سیکیورٹی تنصیبات، ہوائی اڈے اور ریلوے اسٹیشن، اسکول، اسپتال، عبادت گاہیں، سیاحتی مقامات اور سرکاری عمارتیں شامل ہو سکتی ہیں
بعض علاقے لیول فور قرار
پاکستان کے بعض علاقے، خصوصاً خیبر پختونخوا کے بعض حصوں کو لیول 4: ڈو ناٹ ٹریول (سفر نہ کریں) کی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکی شہریوں کو پاکستان اور بھارت کا سفر نہ کرنے کی ہدایت، ٹریول ایڈوائزری جاری
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ لیول 4 علاقوں میں کسی بھی مقصد کے لیے سفر نہ کیا جائے۔
اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کا خدشہ
ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ لیول فور علاقوں میں اغوا، قتل کی کوششیں عام ہیں، جن کا نشانہ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی بن سکتے ہیں۔ یہ انتباہ پاکستانی نژاد امریکی شہریوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
مظاہروں میں شرکت پر گرفتاری کا خدشہ
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ پاکستان میں بغیر اجازت مظاہروں کی قانونی اجازت نہیں اور ماضی میں ایسے مظاہروں میں شرکت کرنے پر امریکی شہریوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
لیول تھری اور لیول فور کا مطلب
لیول 3: سنگین سیکیورٹی خطرات، سفر پر نظرثانی کی ہدایت
لیول 4: سب سے اعلیٰ انتباہی سطح، ہر قسم کے سفر سے گریز کی ہدایت
یہ بھی پڑھیے امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز پہنچ گیا، ایران کا بھی فوجی مشقوں کا اعلان، سعودی عرب کا فضائی حدود دینے سے انکار
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان میں مقیم اپنے شہریوں کو ایک ایسے وقت میں الرٹ کیا ہے جب ایران پر امریکی حملے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا ایک مضبوط بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، اگر معاہدہ نہ کیا گیا تو اگلا حملہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔













