صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کے بعد خالی ہونے والے اس عہدے تک پہنچنے کے لیے اہم شخصیات نے سیاسی سرگرمیاں تیز کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان آہوں سسکیوں میں سرکاری و فوجی اعزاز ’گن کیرج‘ کے ساتھ سپرد خاک
ذرائع کے مطابق مختلف سیاسی شخصیات نے صدارت کے حصول کے لیے اسلام آباد اور مظفرآباد میں لابنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور پس پردہ رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری ہے۔
وی نیوز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ریاست کے منصب کو آئینی اور علامتی حیثیت حاصل ہونے کے باعث مختلف سیاسی جماعتیں اس عہدے پر اپنے تجربہ کار اور بااثر رہنماؤں کو ہی لے کر آنا چاہیں گی۔
اس وقت اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد، راجا فاروق حیدر خان، سردار محمد یعقوب خان، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان، سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان اور سابق ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم صدر ریاست کے لیے دوڑ میں شامل ہیں۔
امیدواران کی جانب سے پارٹی قیادت، پارلیمانی اراکین اور بااثر شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ حمایت حاصل کی جا سکے۔ اسلام آباد میں مرکزی سیاسی قیادت سے رابطوں کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈرز کے حتمی انٹرویوز نواز شریف کریں گے
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) سے وابستہ کسی شخصیت کے صدر منتخب ہونے کے امکانات زیادہ ہیں تاہم مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق بھی عہدے کے لیے لابنگ کررہے ہیں۔
آئینی طور پر صدر ریاست کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں 30 روز کے اندر انتخاب ہونا ضروری ہے لیکن اس وقت آزاد کشمیر میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ہی خالی ہے جس نے یہ شیڈول جاری کرنا ہے۔
کچھ روز قبل وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے 3 ناموں پر مشتمل پینل چیئرمین کشمیر کونسل (وزیراعظم پاکستان) کو ارسال کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی کچھ روز میں متعلقین سے ایک میٹنگ ہونی ہے جس کے بعد وہ چیف الیکشن کمشنر کے لیے نام کی منظوری دیں گے۔
واضح رہے کہ اس وقت آزاد کشمیر میں حکومت پیپلزپارٹی کی ہے لہٰذا وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا حکمران جماعت (پیپلز پارٹی) آزاد کشمیر میں اپنا صدر لانے میں کامیاب ہو سکے گی یا نہیں؟
سینیئر تجزیہ کار جاوید اقبال ہاشمی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں صدر کے انتخاب کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے جو پیپلزپارٹی کے پاس موجود ہے اور وہ اپنا صدر منتخب کروا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ریاست کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں 60 روز کے اندر الکیشن کا انعقاد آئینی تقاضا ہے لیکن آزاد کشمیر میں اس وقت چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ہی خالی ہے جو یہ سارا عمل کرنے کے ذمے دار ہوتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں جاوید اقبال ہاشمی نے کہا کہ صدر ریاست بننے کے لیے مختلف شخصیات کی لابنگ کی خبریں فی الحال قیاس آرائیاں ہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: احتجاج کو روکنے کا اختیار، عوامی ایکشن کمیٹی ہمارے ساتھ حکومت کا حصہ بن جائے، وزیراعظم آزاد کشمیر کی پیشکش
صدر کے انتقال، استعفے یا مواخذے کی صورت میں نیا صدر باقی رہنے والی مدت کے لیے ہوگا یا پورے 5 سال کے لیے اس پر آئینی ماہرین کی رائے تقسیم ہے۔
تاہم ماضی کی ایک مثال موجود ہے جس کے مطابق سنہ 1996 میں اس وقت کے صدر سردار سکندر حیات کو وزیراعظم سردار عبدالقیوم نے مشورہ دیا کہ آپ استعفیٰ دے دیں تاکہ ہم آپ کو دوبارہ اسی دور میں اگلی مدت کے لیے صدر منتخب کروادیں۔
سردار سکندر حیات نے ایسا ہی کیا اور استعفیٰ دینے کے بعد دوبارہ اگلی مدت کے لیے بھی صدر منتخب ہوگئے۔
سینیئر صحافی راجا کفیل احمد کے مطابق صدر کے انتقال کی صورت میں فی الفور نئے صدر انتخاب ضروری ہے اور نئے منتخب ہونے والے صدر کی مدت 5 سال کے لیے ہوگی۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سنہ 1996 کی مثال ہمارے سامنے ہے جب سردار سکندر حیات کو استعفیٰ دینے کے بعد دوبارہ صدر بنا دیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں جب پیپلزپارٹی کو الیکشن میں 2 تہائی اکثریت مل گئی تو انہوں نے سردار سکندر حیات کو استعفیٰ دینے کا کہا لیکن نہ ماننے پر ان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا دیا گیا اور پھر سردار ابراہیم صدارت کے منصب پر براجمان ہوگئے تھے۔
مزید پڑھیں: چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب، فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب
آزاد کشمیر میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ایوان میں 27 ارکان کی حمایت ہونا ضروری ہے جو پیپلز پارٹی کو حاصل ہے تاہم ذرائع کے مطابق بیرسٹر (سلطان محمود) گروپ اس وقت حکومت سے ناراض ہے اگر ان کے ساتھ معاملات طے نہ ہو سکے تو پیپلز پارٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن بھی اپنا صدر بنانے کی کوشش کرے گی کیوں کہ وہ آئندہ حکومت بنانے کا سوچ رہی ہے لیکن ایوان میں اس کے ارکان کی تعداد 10 ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پیپلز پارٹی نئے صدر کا انتخاب کر بھی لیتی ہے تو نئی بننے والی حکومت کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اسے ہٹا کر اپنا صدر منتخب کرلے۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل کو حل کرنا اب آپ کی ذمہ داری ہے، بلاول بھٹو کا فیصل راٹھور سے مکالمہ
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں آئندہ عام انتخابات جولائی 2026 میں متوقع ہیں۔














