پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نہ صرف براہِ راست بلکہ پسِ پردہ رابطے بھی مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق موجودہ محاذ آرائی اور احتجاجی سیاست کے باعث بات چیت کی تمام راہیں بند ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کڑی شرط عائد کردی
معروف صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے سینیئر اندرونی ذرائع نے بتایا ہے کہ اب وہ حکومتی وزرا بھی پی ٹی آئی سے کسی قسم کا غیر رسمی یا بالواسطہ رابطہ نہیں کر رہے جو ماضی میں پسِ پردہ گفتگو کا ذریعہ بنتے رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رابطے ختم ہونے کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی کی مسلسل احتجاجی سیاست اور ریاستی اداروں کے خلاف سخت عوامی مہم ہے۔ ایک سینیئر رہنما کے مطابق احتجاج، تلخ بیانات اور ساتھ ہی مذاکرات کی امید رکھنا ممکن نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پارٹی قیادت اب یہ حقیقت تسلیم کر چکی ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات کے باعث اس وقت مذاکرات کا آپشن موجود نہیں۔ اسی لیے پارٹی کی توجہ 8 فروری کو ہونے والے احتجاج پر مرکوز ہے۔ پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ 8 فروری کو ملک بھر میں پُرامن احتجاج کیا جائے گا، تاہم کارکنوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بڑے اجتماعات کے بجائے، خاص طور پر پنجاب میں ضلعی اور یونین کونسل کی سطح پر علامتی مظاہرے کریں۔
ذرائع کے مطابق مؤثر احتجاج زیادہ تر خیبرپختونخوا تک محدود رہنے کا امکان ہے جبکہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر عوامی نکلنے کے امکانات کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
رپورٹ کے مطابق 8 فروری کے بعد اپوزیشن اتحاد کی قیادت، جس میں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس شامل ہیں، دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، تاہم اس کے لیے محاذ آرائی کی سیاست ختم کرنا لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام برقرار رہے گا اور ایسی کسی تحریک کو قبول نہیں کیا جائے گا جو معیشت کو نقصان پہنچائے۔
ان حالات میں 8 فروری کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی حکمتِ عملی غیر واضح دکھائی دیتی ہے اور پارٹی کے اندر اس بات پر بحث جاری ہے کہ بغیر مذاکرات اور عوامی طاقت کے طویل محاذ آرائی کس حد تک ممکن ہے۔














