صدر زرداری کے دورہ یو اے ای کے دوران سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور دیا گیا، ترجمان دفتر خارجہ

جمعرات 29 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدر پاکستان آصف علی زرداری کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور عوامی رابطوں میں نئے مواقع تلاش کرنے اور مشترکہ ترقی کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ صدر زرداری نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی، اجلاس میں ابوظہبی کے سپریم کونسل برائے مالی و اقتصادی امور نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور جاری منصوبوں کا جائزہ لینے پر زور دیا، دونوں ممالک نے پرچم بردار منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے اور تجارتی تعلقات وسیع کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیں:یمن کے معاملے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی دانشمندی کو سراہتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس دورے سے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی توقع ہے، بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مشترکہ کوششوں سے مسائل جلد حل کیے جائیں گے، اس ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک بات چیت کی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

اسی دوران گھانا کے ساتھ وفود کی سطح پر دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی، صدر زرداری کا یہ دورہ سرمایہ کاری، تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ اور عوامی رابطوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم سنگ میل ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ہفتے وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں شرکت کی۔ ایونٹ کے دوران وزیراعظم نے عالمی سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

ڈیووس سے واپسی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جس میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

اس ہفتے صدر مملکت آصف علی زرداری بھی متحدہ عرب امارات کے دورے پر ہیں۔ اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی۔ صدر مملکت نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی۔

اسی ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے دو مرتبہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں ایران اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں پکڑا گیا لقمان خان پاکستانی نہیں افغان شہری ہے، ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر کے لیے جاری ہونے والی ٹریول ایڈوائزری کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے بعض پہلے سے جاری ٹریول ایڈوائزریز واپس بھی لے لی ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ریلوے منصوبے پر فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم مجوزہ مفاہمتی یاداشتوں کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

ایران پر جنگ کے بادل منڈلانے سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ پر امن طریقے سے مسائل کے حل کی بات کرتا ہے، ہم طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں ہم امید کرتے ہیں کہ امن بحال ہو گا۔

بھارت اور یورپ کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، پاکستان اور یورپ کے درمیان تجارتی حجم 12 ارب یورو سے زیادہ ہے۔ بھارت کے یورپ کے ساتھ معاہدات کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔

غزہ بورڈ آف پیس

پاکستان کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے حوالے سے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے خلوص نیت کے ساتھ اس بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ان کے بقول، بورڈ میں شمولیت کا پہلا مقصد جنگ بندی اور دوسرا مقصد تعمیر نو ہے۔ پاکستان کی شمولیت کو آٹھ ممالک کی جانب سے گزشتہ اگست میں شروع کیے گئے امن عمل کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ غزہ کے لوگوں نے پچھلے دو سالوں میں ایک بہت بڑی تباہی دیکھی ہے، جبکہ اقوام متحدہ اس تباہی کو روکنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بورڈ آف پیس کو ابراہامک اکارڈز سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ اس بورڈ کا مقصد اقوام متحدہ کو مضبوط کرنا ہے، نہ کہ اسے نقصان پہنچانا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دفتر خارجہ میں مشاورتی عمل کے بعد بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی اور بورڈ میں شمولیت کے ذریعے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ بورڈ میں مستقل یا غیر مستقل رکنیت کے درمیان کوئی تخصیص نہیں ہے۔ رکنیت کی مدت تین سال ہے، جس کے بعد مالی تعاون (کنٹری بیوشن) بھی ادا کرنا ہوگا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دی گئی سزا کو ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے، تاہم وہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے ڈی آئی خان میں ہونے والے حملے پر کہا کہ افغان نیشنلز کی شمولیت ایک پیٹرن ہے اور اصل میں افغان شہری پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ ڈی آئی خان حملے کا معاملہ دوطرفہ اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی اٹھایا گیا ہے۔

کشمیری رہنماؤں کی حمایت

ترجمان دفتر خارجہ نے کشمیری لیڈر یاسین ملک کے بھارت میں جاری ٹرائل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک پر بھارت میں ایک جعلی مقدمہ چلایا جا رہا ہے جس کی پاکستان شدید مذمت کرتا ہے۔ ان پر لگائے گئے الزامات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان تمام کشمیری رہنماؤں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

ایران کے داخلی امور میں پاکستان کا مؤقف

ایران کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کے خلاف پاکستان کا موقف مستقل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک برادر ملک ہے اور عالمی سطح پر اس کی اہمیت قابلِ اعتراف ہے۔

آئی سی سی میں شمولیت اور کھیلوں کے معاملات

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں شمولیت کے معاملے پر متعلقہ حکومتی سطح پر غور جاری ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فیصلہ متعلقہ فورم، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، کے پاس ہے۔

بین الاقوامی فورمز پر بھارتی دہشتگردی

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی فورمز پر بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگرد کارروائیوں کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ پاکستان اس سلسلے میں مسلسل اپنی تشویش ظاہر کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھارتی سفارتکاروں کے ساتھ مثالی اور شائستہ سلوک کیا جاتا ہے، جبکہ بھارت میں پاکستانی سفارتکاروں کے ساتھ رویہ واضح طور پر مختلف اور غیر مناسب ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے جج افضل مجوکہ کے بیان پر کہا کہ ایران اور کیوبا کو دہشتگرد ریاستوں کے طور پر جس طرح اس کیس میں ذکر کیا گیا، پاکستان اس موقف سے متفق نہیں ہے۔

پاک افغان تعلقات

کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کی کوئی امید ہے؟ اس سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی ہے۔ موجودہ ڈیڈلاک افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے تحفظات دور نہ کرنے کے باعث پیدا ہوا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ خوست کے مدرسے کے ناظم کی تقریر شدید اشتعال انگیز تھی اور اس طرح کے بیانات امن کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ افغانستان کی جانب سے کچھ عوامل اور بعض مطالبات پر عدم پیش رفت بھی دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ ڈیڈلاک کی اہم وجہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

پی ٹی آئی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟