وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں اس قسم کا واقعہ ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا، واقعے اور قتل میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے متاثرہ فیملی کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دلوایا جائے گا تاکہ متاثرہ خاندان کو مالی امداد فراہم کی جا سکے۔
مزید پڑھیں: بھاٹی گیٹ سانحہ، ماں بیٹی کی ہلاکت پر 3 ذمہ داران نامزد، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی
مریم نواز نے کہا کہ حادثہ ناقابل برداشت ہے اور لاہور جیسے بڑے شہر میں یہ ہرگز قابل قبول نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ٹیپا اور واسا سے ذمہ داران کے نام کیوں نہیں سامنے لائے گئے اور گرفتاریاں کیوں نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے بعد ہر لمحہ کرب بھرا رہا اور یہ مجرمانہ غفلت ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ حادثے کی جگہ تعمیراتی کام جاری تھا، سیوریج لائن انتہائی اونچی تھی اور پانی کا بہاؤ بدلتا رہتا تھا۔ ماں اور بیٹی لاہور میں اپنے رشتہ داروں کے گھر آئے ہوئے تھے اور حادثے سے قبل رکشے پر سوار ہو رہی تھیں۔ حادثے کی جگہ پر اندھیرا تھا اور لائٹنگ کا انتظام موجود نہیں تھا، جس سے سانحے کو روکا جا سکتا تھا۔
مریم نواز نے کہا کہ سائٹ پر موجود تمام لوگ واقعے کے ذمہ دار ہیں اور ایک نہیں بلکہ کئی مین ہول کھلے ہوئے تھے۔ تعمیراتی کام کے دوران انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، ماں کی لاش کل اور بچی کی لاش آج ڈھونڈی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سائٹ پر حفاظتی انتظامات کا فقدان انتہا کی انتباہی نشانی ہے، دنیا بھر میں تعمیراتی سائٹس پر حفاظتی اقدامات لازمی کیے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بھاٹی گیٹ سانحہ، ماں بیٹی کی ہلاکت پر 3 ذمہ داران نامزد، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی
وزیراعلیٰ نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پینافلیکس لگا کر سائٹ بند کر دی گئی، روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا، اور جن لوگوں نے سائٹ کو کھلا چھوڑا ان کے گھروں میں بچے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی کیمروں اور CCTV کی جانچ میں وقت لگتا ہے، یہ راجن پور یا لیہ کی نہیں، لاہور کی بات ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ حادثے کو دبا کر معمولی شکل دینے کی کوشش کی گئی، لیکن اب انصاف ہوگا۔














