وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم 2 فروری سے شروع ہو کر 8 فروری تک جاری رہے گی، جس کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ اس مہم میں 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گے۔ عائشہ رضا فاروق نے والدین اور کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں سے مکمل تعاون کریں تاکہ اس موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، 57 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں اور حکومتِ پاکستان پولیو کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ علمائے کرام اور میڈیا عوامی آگاہی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی آئی اور 31 کیس رپورٹ ہوئے، تاہم حتمی ہدف زیرو پولیو کیسز کا حصول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو ویکسین سے اموات کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، مگر وائرس کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق پولیو مہم کے بجٹ کا 70 فیصد بین الاقوامی شراکت دار جبکہ 30 فیصد حکومتِ پاکستان فراہم کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: سابق کھلاڑی عبدالقادر کے بیٹے پر گھریلو ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام، پولیس نے گرفتار کرلیا
فوکل پرسن نے انکشاف کیا کہ کراچی کے بعض علاقوں میں پولیو ویکسین سے انکار اور ساؤتھ کراچی میں شکایات موصول ہوئیں، جبکہ چند اضلاع میں پولیو ورکرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے اور پولیو ورکرز کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔














