بلوچستان کے ضلع خضدار اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی زیرِ زمین گہرائی 12 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز خضدار سے تقریباً 70 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک فوج کی سُست میں زلزلہ متاثرین کے لیے فوری امدادی کارروائیاں، خوراک اور طبی سامان روانہ
زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ کلمۂ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے، تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
زلزلہ کیوں آتاہے؟
زلزلہ کیوں آتاہے؟ اس کی کیاسائنسی وجوہات ہیں، ماہرین ارضیات اس بارے میں کیاکہتے ہیں؟
زیر زمین ارضیاتی پلیٹیں یا بڑی بڑی چٹانیں جب شدید دباؤکے تحت ٹوٹتی اور سرکتی ہیں تو زمین کی سطح پر اس کے شدید اثرات نمودارہوتے ہیں، جنہیں زلزلے کا نام دیاجاتا ہے۔

زلزلے کا مرکزی مقام محور کہلاتا ہے جبکہ محورکے عین اوپرکے مقام کو زلزلے کا مرکز یا ایپی سنٹر کہا جاتا ہے۔
3 طرح کی لہریں زلزلے کا باعث بنتی ہیں
ماہرین کے مطابق 3 طرح کی لہریں زلزلے کا باعث بنتی ہیں جنہیں سائنس مک ویوز کہا جاتا ہے۔ انہیں پی، ایس اور ایل ویو بھی کہاجاتا ہے۔ یہ لہریں محور سے تمام اطراف میں پھیلتی ہیں۔

زلزلے سے ہونے والے نقصان کا انحصار اس کی زیر زمین گہرائی اور شدت پرہوتاہے سطح زمین سے گہرائی جتنی کم ہوگی سطح زمین کے اوپر تباہی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔














