افغان طالبان کے بارے میں تو زیادہ کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ بنیادی باتیں ہر کوئی جانتا ہے کہ روس کی افغانستان سے واپسی کے بعد افغان مجاہدین گروپوں میں 4 سال تک خانہ جنگی چلتی رہی۔ احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمت یار گروپ ایک دوسرے سے نبردآزما رہے۔ کابل کے دونوں اطراف ان کے دھڑے ڈیرے ڈال کر بیٹھے تھے۔ ایک دوسرے پر راکٹ برساتے، گولیاں چلاتے رہتے۔
ملک میں مرکزی حکومت نہ ہونے کے باعث جگہ جگہ مختلف وار لارڈز کا سکہ چلتا تھا، ہر ضلع، دوسرے صوبے میں الگ وار لارڈ تھا جو بدمعاشی اور لوٹ مار کا بازار گرم کرتا۔
یہ صورتحال انتہا تک پہنچ گئی جب قندھار /کندھار میں بعض وارلارڈز نے اعلانیہ لڑکوں سے شادیاں کرنا شروع کر دیں۔ اس پر مدارس کے کچھ طلبہ نے دینی غیرت کے پیش نظر ایک نوجوان مولوی ملا عمر کی زیرقیادت تحریک شروع کی۔ طالبان کے نام سے اس گروہ کو ابتدائی کامیابیاں ملیں۔ یہ گروپ تب پاکستانی اداروں کی نظر میں آگیا۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی، جنرل ریٹائر نصیراللہ بابر ان کے وزیرداخلہ تھے، انہوں نے طالبان کی سرپرستی اور حمایت کی۔ وہ بعد میں انہیں اپنے بچے بھی قرار دیتے تھے۔
افغان طالبان کی کامیابی کی اصل وجہ مگر عوام کا خانہ جنگی اور مسلسل لڑائیوں سے بیزار ہوجانا تھا۔ ہر جگہ لوگ ان کے ساتھ ملتے گئے، نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے گروپوں کے جنگجو بھی طالبان کے ساتھ جا ملے۔ میں اس سے انکار نہیں کرتا کہ کچھ نادیدہ ہاتھ بھی کارفرما تھے۔ نتیجہ بہرحال یہ نکلا کہ افغان طالبان کی پورے ملک پر حکومت قائم ہوگئی۔ ملا عمر اس کے سربراہ ہوگئے۔ ان پر لاکھ تنقید کی جائے مگر بہرحال دو باتوں کا ہر کوئی اعتراف کرتا ہے ، ملا عمر کی دیانت اور کریڈیبلٹی کا۔ اس درویش طبع شخص نے افغانستان سے منشیات کی پیداوار غیرمعمولی حد تک کم کر کے لگ بھگ صفر کر دی۔ اسلحہ لوگوں اور گروہوں سے لے لیا اور پورے ملک میں زبردست امن قائم کر دیا۔
ملا عمر کا دورحکومت
ملا عمر کا پاکستان سے بہت اچھا تعلق تھا۔ ان کے پورے دور حکومت میں پاک افغان بارڈر پرسکون اور پرامن رہی۔ ملا عمر کا ایک خط بھی مشہور ہوا جو انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد کرنے والے جہادی تنظیموں کے نام لکھا ، اس میں ان کی حمایت کی اور اپنی سپورٹ کی یقین دہانی بھی ۔یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر آج ملا عمر زندہ ہوتے تو وہ اپنی جگہ پر آج اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان سخت گیر، بے لچک،بے لحاظ ملا ہبت اللہ اخونزادہ سے سخت ناراض اور شاکی ہوتے۔ قوی امکان تھاکہ انہیں قندھار ہی سے نکال باہر کرتے۔ اپنے بیٹے ملا یعقوب کی بھی سخت سرزنش کرتے اور جس طرح سازشی انداز میں افغانستان بھارت سے تعلقات قائم کر رہا ہے، اس کی تو قطعی اجازت نہ دیتے۔
ملا عمر جیسے شخص سے یہ توقع ہی نہیں کی جا سکتی تھی کہ غزہ میں ہونے والے ظلم کی وہ سختی سے مذمت نہ کرتے اور اسی غاصب قوت کے دست راست بھارت سے یوں ہاتھ ملا لیتے۔ ملا عمر ٹی ٹی پی جیسے دہشتگرد گروپ کو بھی کبھی سپورٹ نہ کرتے۔ ان کے 5 سالہ دور حکومت میں پاکستان کے خلاف ایک بھی کارروائی نہیں ہوئی۔ افغان سرزمین پاکستان کے لیے محفوظ اور پرامن رہی۔ آج جو ہو رہا ہے یہ ملا عمر کے نظریے اور سوچ ہی کے خلاف تھا ۔ افسوس کہ آج افغان طالبان اپنے بانی کی فکر کے مخالف چل نکلے ہیں۔
افغان طالبان: نائن الیون کے بعد
نائن الیون ہونے دینا ملا عمر کی سنگین غلطی تھی۔ وہ القاعدہ اور عرب جنگجووں کو سختی سے کنٹرول نہ کر سکے، ان سے رعایت برتی۔ بعد ازاں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق نائن الیون حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد تھا، جبکہ یہ بھی بعید نہیں کہ ملا عمر کو اس سازش کی مکمل تفصیلات کا علم نہ ہو۔
خیر دنیا کو ہلا دینے والے اس واقعے کے بعد افغانستان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ افغان طالبان کی حکومت چلی گئی، انہیں بڑا بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ اگلے 20 سال ان کے عسکری جدوجہد میں گزرے۔ کاش یہ نہ ہوا ہوتا تو شاید اس خطے کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ پاکستان اور افغانستان تب مل کر نہ صرف خطے کو پرامن رکھتے بلکہ افغانستان کے گلی کوچوں میں بھی ترقی اور خوشحالی کے خوش رنگ پرندے اترتے۔
نائن الیون کے بعد پاکستان نے ایک کوشش کی کہ کسی طرح ماڈریٹ طالبان کے نام پر افغان طالبان کا ایک دھڑا (خود ملا عمر کی منظوری سے )الگ کیا جائے جو بدستور کابل میں حکمران رہے اور القاعدہ کو الگ کر دیا جائے، کسی نہ کسی طرح کچھ بچت ہوجائے۔ یہ کوشش کیوں کامیاب نہ ہوسکی، یہ ایک الگ داستان ہے۔ شاید افغان طالبان اتنے چالاک اور ہوشیار نہ تھے کہ یہ سوانگ رچا سکتے۔ اس وقت کے سی آئی اے سٹیشن چیف ولیم گرینئر کی کتاب ’ایٹی ایٹ ڈیز ٹو قندھار‘ یعنی قندھار کے لیے 88 روز میں پوری تفصیل موجود ہے ۔ 88 روز دراصل وہ مدت ہے جس میں نائن الیون سے لے کر افغانستان پر حملہ ہونے تک کا عرصہ آتا ہے۔
امریکا کے خلاف مزاحمت
افغان طالبان نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ امریکی حملوں میں اپنا زیادہ جانی نقصان کرانے کے بجائے علاقے چھوڑ دیں اور تحلیل (Melt)ہو جائیں۔ یہ حکمت عملی درست تھی۔ امریکا جیسی قوت سے لڑنے کے لیے گوریلا تحریک ہی مناسب راستہ تھا۔
ابتدائی چند ماہ یا سال ڈیڑھ گزرنے کے بعد افغان طالبان نے مزاحمت شروع کی۔ اس دوران حامد کرزئی کی حکومت افغانستان پر قائم کرا دی گئی تھی۔ ناقص گورننس، بے پناہ کرپشن اور نالائق لیڈرشپ نے افغانستان میں لوگوں کو مایوس کرنا شروع کر دیا۔
دوسری بڑی غلطی امریکیوں سے یہ ہوئی کہ انہوں نے افغانستان کے روایتی سٹرکچر میں تاریخی اعتبار سے چلے آئے پشتون غلبے کو نظرانداز کرتے ہوئے تاجک، ہزارہ، ازبک آبادی کو زیادہ اہمیت اور زیادہ سپیس دی۔ کہنے کو تو حامد کرزئی پشتون تھا، کچھ وزرا بھی مگر کرزئی کے 10 سال سے زیادہ دور حکومت میں پشتون پس پشت چلے گئے، جس کا شدید ردعمل ہوا اور وہ افغان طالبان کے حق میں گیا جو کہ پشتون ہی تھے۔
کیا طالبان کی مزاحمت میں پاکستان کا کردار تھا؟
یہ اس کہانی کا سب سے اہم حصہ ہے۔ درحقیقت افغان طالبان کی امریکا کے خلاف مزاحمت پاکستان کی درپردہ حمایت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔
دنیا کی کوئی بھی گوریلا تحریک کسی ہمسایہ ملک کی سپورٹ کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔ بات کامن سینس کی ہے۔ ہر لڑنے والے کو کچھ چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مسلسل پہاڑوں پر نہیں لڑا جا سکتا۔ لوگ جنگ میں زخمی بھی ہوتے ہیں جنہیں علاج کی ضرورت پڑتی ہے، بہت سوں کے زخم ایسے گہرے ہوتے ہیں کہ جدید ترین طبی سہولتوں کے بغیر علاج نہیں ہوسکتا۔ کچھ معذور بھی ہوجاتے ہیں انہیں مصنوعی اعضا لگوانے پڑتے۔
پھر ان جنگجووں کے اہل خانہ بھی ہوتے ہیں۔ بیوی بچے، بہن بھائی۔ جنہیں کوئی محفوظ ٹھکانہ چاہیے ہوتا ہے، دشمن کی رسائی سے دور۔ یہ جنگجو چند ماہ تک لڑتے ہیں، پھر جنگ میں وقفے آ جاتے ہیں۔ خاص کر افغانستان جیسے علاقے میں جہاں کئی جگہوں پر شدید سردی پڑتی ہے، منفی درجہ حرارت ہو جاتا ہے۔ شدید برف باری ہوتی ہے، سڑکوں پر برف کی وجہ سے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ دسمبر سے مارچ تک کے تین چار مہینے افغانستان میں جنگ بند رہتی۔ طالبان ہر سال تازہ دم ہو کر، ازسرنو منظم ہو کر اپریل سے اپنے شدید حملے شروع کرتے۔ اسی وجہ سے سپرنگ افینسو (موسم بہار کے حملوں )کی ماڈرن جنگی اصطلاح امریکی ماہرین استعمال کرتے۔ نیٹ پر بے شمار تجزیے اس حوالے سے ملیں گے۔
سوال یہ ہے کہ ہزارہا طالبان جنگجو جو 20 سال تک امریکا سے لڑتے رہے، ان میں بارہ چودہ سال تک تو شدید ترین جنگ تھی، اس سب عرصے میں انہوں نے کہاں پناہ لی؟
افغانستان میں تو یہ رہ نہیں سکتے تھے کہ چپے چپے پر کرزئی حکومت اور امریکیوں کے جاسوس موجود تھے۔ بہت سے طالبان لیڈروں اور کمانڈروں کے سر کی قیمت کئی کئی ملین بلکہ کروڑوں میں مقرر تھی۔ ان کی تو فوری مخبری ہوجاتی، یہ سب پکڑے جاتے اور تحریک ابتدا ہی میں دم توڑ جاتی۔
اسی طرح ان سب کے گھر بار کہاں تھے؟ ملا عمر کی حکومت ختم ہوئی تو ان کا بیٹا ملا یعقوب تب دس گیارہ برس کا ہوگا، آخر اس نے امریکا کے خلاف مزاحمت والا عرصہ کہاں گزارا؟ کہاں سے پڑھا؟ دیگر لیڈروں ملا برادر، ملا ہبت اللہ، ملا حسن اخوندزادہ، عبدالسلام حنفی، امیر خان متقی اور دیگر کے بچے آخر کہاں پڑھے؟
یہ سوال آپ کو، مجھے اور سب کو پوچھنا چاہیے۔ یہ کوئی پیچیدہ سوال نہیں، ایک بالکل سادہ اور فطری سوال ہے۔
یہاں عموماً یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ ملا ضعیف کو پاکستان نے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا تھا، مگر یہ ایک الگ اور متنازع معاملہ ہے، جسے بنیاد بنا کر پورے تناظر کو رد کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ وہ ایک الگ کہانی ہے اور شاید اس طرح درست بھی نہیں جیسا کہ ملا ضعیف نے بیان کیا، لیکن اگر اسے سچ مان لیں تب بھی ملا ضعیف کے بعد کسی اور کو پکڑ کر کیوں نہیں دیا گیا؟
پھر یہ بھی سوچیے کہ ہزاروں طالبان جنگوں میں زخمی ہوئے، شدید زخمی بھی، بعض کے ہاتھ اور ٹانگ وغیرہ بھی بارودی سرنگ یا بم، گولے وغیرہ سے ضائع ہوجاتی۔ امریکی فوجی ہزاروں لاکھوں ٹن گولہ باردو برساتے رہے، بمباری کرتے رہے، ان کے پاس ڈرون بھی تھے، سب کچھ تھا۔ کچھ نہ کچھ تو اس کا بھی اثر ہوا ہوگا؟آخر لڑنے والے افغان طالبان جنگجو بھی انسان ہی تھے۔ وہ کوئی جن یا خلائی مخلوق تو نہیں تھے کہ گولہ، بم یا گولی ان پر اثر ہی نہ کرے۔ یہ زخمی تو ہوئے ہوں گے؟ پھر آخر ان کا علاج کہاں ہوتا رہا؟
افغانستان میں تو ڈھنگ کے اسپتال ابھی تک نہیں۔ دو چار ہسپتال وہ بھی بڑے شہروں کابل، قندھار، جلال آباد ، مزار شریف وغیرہ میں ہیں۔ وہاں تو امریکیوں کا کنٹرول تھا، کرزئی حکومت کے جاسوس، مخبر قدم قدم پر موجود تھے۔ پھر آخر ان طالبان جنگجووں نے اپنا علاج کہاں کرایا؟ کئی کئی ماہ تک کہاں زیر علاج رہے؟ شدید ترین برفانی موسم سرما یہ کہاں گزارتے اور تازہ دم ہو کر پھر سے اپریل میں لڑنے آجاتے تھے؟
ان تمام سوالات کا سادہ سا جواب ہے۔ پاکستان۔
پاکستان ہی وہ محفوظ پناہ گاہ تھا جہاں افغان طالبان کو نہ صرف عارضی تحفظ ملا بلکہ تنظیمی بقا کے لیے ضروری سہولتیں بھی دستیاب رہیں۔ ان کے بچے پاکستانی مدارس میں پڑھتے رہے۔ بعض محتاط اندازوں کے مطابق ہزاروں بلکہ دسیوں ہزار طالبان جنگجو اس طویل جنگ کے دوران زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد شدید زخمیوں کی تھی جنہیں طویل علاج کی ضرورت پڑی۔ یہ سب پاکستان کے بہترین اسپتالوں سے مفت اپنا علاج کراتے رہے ۔
پاکستان نے یہ سب کیسے کیا؟
پاکستان نے بظاہر امریکا کے ساتھ اتحاد برقرار رکھا، مگر زمینی حقائق میں افغان طالبان کے معاملے پر ایک مختلف حکمتِ عملی اختیار کیے رکھی، جسے بعد میں خود امریکی حکام نے ’ڈبل گیم‘ قرار دیا۔ خود امریکی ماہرین کے مطابق پاکستان نے بے شک امریکا کو لاجسٹک سپورٹ کے نام پر اڈے دئیے ، ان کا اتحادی بنا، مگر درپردہ پاکستانی اداروں نے ان افغان طالبان کو سپورٹ کیا۔ انہیں پناہ دی، فنڈز دئیے، اسلحہ اور لڑائی کے لیے مدد بھی دی، ان کے بچوں کوبخیر وعافیت بہترین مدارس اور پاکستانی گورنمنٹ اسکولوں میں پڑھنے دیا۔
یار رہے کہ یہ سب ایسی صورت میں ہوا کہ سی آئی اے کے ایجنٹ بھوکے بھیڑیوں کی طرح پاکستان میں ان طالبان لیڈروں کی بو سونگھتے پھر رہے تھے۔ آپ نے بلیک واٹر کا نام تو سنا ہی ہوگا؟ یہ بلیک واٹر کیا تھی، پاکستان کیا کرنے آئی تھی؟ بلیک واٹر جیسے نجی امریکی نیٹ ورکس کی پاکستان میں موجودگی کا بنیادی مقصد افغان طالبان سے وابستہ افراد کی نشاندہی اور گرفتاری تھا، اور ریمنڈ ڈیوس کا کیس بھی اسی بڑے پس منظر سے جڑا ہوا تھا۔
یہ ریمنڈ ڈیوس یہاں پر اسی چکر میں آیا تھا، اس نے پاکستان میں کوئی چوری، ڈاکہ یا فراڈ نہیں کرنا تھا۔ اسے جانے کی اجازت بھی اسی لیے دی گئی تھی کہ اس بہانے پاکستان نے ان سینکڑوں، ہزاروں بلیک واٹر ایجنٹوں سے نجات پا لی تھی۔ ریمنڈ ڈیوس کے ساتھ ہی بلیک ایجنٹس بھی پاکستان سے نکال باہر کئے گئے۔ ہمارے ہاں ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑے جانے پر بہت کچھ لکھا، کہا جاتار ہا، مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ اس سے کیا فائدہ اٹھایا گیا؟ وہ فائدہ وہی تھا جو ابھی اوپر بیان کیا۔
آپ میں سے جو اخبار پڑھتے، عالمی اخبار دیکھتے ہیں، انہیں یاد ہوگا کہ مسلسل امریکی جرنیل اعلانیہ پاکستان پر تنقید کرتے اور ڈبل گیم کا الزام لگاتے تھے۔ انٹرنیٹ پر آج بھی بے شمار بیانات مل جائیں گے، جنرل میکرسٹل، ایڈمرل ملن اور دیگر امریکی کمانڈروں کے جنہیں پاکستان سے شکوے شکایات تھیں۔ آخر امریکی ایسا کیوں کرتے تھے؟ وہ لاڈ پیار میں تو پاکستان سے شکوے نہیں کرتے تھے، کوئی وجہ تھی تو یہ چیختے چلاتے تھے، الزام لگاتے تھے۔ حتیٰ کہ طیش میں آ کر پاکستانی چیک پوسٹوں کو بھی نشانہ بنا ڈالتے، سلالہ جیسے سانحے تب ہوئے۔ پاکستان نے یہ سب افغان طالبان کی سپورٹ میں سہا، برداشت کیا۔
سی آئی اے سے قریبی تعلق رکھنے والے امریکی مصنفین نے کئی سو صفحات پر مبنی کتابیں لکھ ماریں۔ سٹیو کول کی کتاب ’ڈائریکٹؤریٹ ایس‘ ہی پڑھ کر دیکھ لیں۔ (خاکسار کے پاس اس کتاب کی پی ڈی ایف موجود ہے، جسے دلچسپی ہو وہ فیس بک یا واٹس ایپ پر میسج کر کے لے سکتا ہے۔)
سٹیو کول ایوارڈ یافتہ مصنف ہے۔ اس نے کتاب میں لکھا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ ایس پاکستانی پریمیئر ایجنسی کا وہ شعبہ ہے جو افغان طالبان سے ڈیل کرتا تھا۔ اس کتاب اور دیگر بے شمار آرٹیکلز، کتابوں اور تجزیوں میں یہی لکھا جاتا رہا کہ پاکستان افغان طالبان کی سپورٹ کر رہا ہے، وہ امریکیوں کے ساتھ حقیقی تعاون نہیں کر رہا، سچ نہیں بولتا۔ ورنہ یہ افغان طالبان کی مزاحمت چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گی۔
یہ بات درست ہے۔ پاکستان اگر سپورٹ نہ کرتا، ان کی پشت پناہی نہ کرتا تو پھر آخر حقانی نیٹ ورک اور اس کے جنگجو آخر کیسے شمالی وزیرستان میں کئی سال تک سروائیو کرتے؟ پورے 10 سال تک پاکستان نے یہ دباؤ برداشت کیا، آخر مجبور ہو کر وہاں آپریشن کیا تو پہلے مناسب وقت اور موقع دیا کہ یہ آرام سے جگہ چھوڑ کر کسی محفوظ جگہ چلے جائیں۔ پاکستان کی سپورٹ اور مدد کے باعث ہی کوئٹہ شوریٰ دو عشرے محفوظ بیٹھی رہی۔ مولانا ہبت اللہ جو آج انتہائی افسوسناک طرزعمل اپنائے بیٹھے ہیں، یہ کچلاک کی ایک چھوٹی سی مسجد میں سکون سے 20 سال کیسے بیٹھے رہتے؟ انہیں پہلے سال ہی امریکا پکڑ کر گوانتاناموبے لے جاتا اور وہ برسوں سخت ترین قید میں رہتے ۔
ملا برادر ایک جوائنٹ آپریشن میں پکڑے گئے، مگر پاکستان نے ملا برادر کو امریکیوں کے حوالے نہیں کیا۔ بار بار دباؤ ڈالا گیا، مگر ملا برادر کو امریکا کو نہیں سونپا گیا۔ 10 سال تک وہ بظاہر حراست میں مگر ایک سیف ہاؤس میں مقیم رہے۔ ان کے بچے کراچی کے ایک ممتاز دینی مدرسہ میں زیرتعلیم تھے، (نام بتانے کی ضرورت ہی نہیں ، بس اتنا کہ وہ وطن عزیز سے محبت کرنے والے مخلص پاکستانیوں کا مدرسہ ہے )۔ملا برادر کے بچے چھٹیوں میں کئی کئی دن تک اپنے والد محترم سے ملنے اس سیف ہاؤس میں جاکر مقیم رہتے۔ یہی باقی لیڈروں کے ساتھ ہوا۔ حتیٰ کہ قطر نے 2014 میں مذاکرات کے لیے دوحہ میں جگہ دی اور چند ایک طالبان لیڈر وہاں چلے گئے مگر جنگجو کمانڈر اور فیلڈ میں لڑنے والے بہرحال پاکستان ہی مقیم رہے۔
جامعتہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم جو ایک طرح سے افغان طالبان کے محسن ہیں، جنہوں نے اپنے شیخ حضرت مفتی رشید احمد کی زیرسرپرستی ملا عمر کے دور میں افغانستان رہ کر بے پناہ کام کیا، کئی عیدیں وہاں گزاریں تاکہ عید کے موقعہ پر طالبان کو مفت روٹی فراہم کرنے والے تنوروں کی نگرانی کی جا سکے۔ انہی مفتی عبدالرحیم صاحب کے 2 بھائی اور بعض دیگر قریبی عزیز افغان طالبان کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے، مفتی عبدالرحیم خود بھی کئی طبی عوارض کا شکار افغانستان میں بے تحاشا سفر کے باعث ہوئے۔ آج افغان طالبان اسی مفتی عبدالرحیم کا نام سننا گوارا نہیں کرتے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں جے یوآئی کے بعض طرف دار، حامی بھی افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے بے بنیاد، شرانگیز پروپیگنڈے کا شکار ہو کر مفتی صاحب کا ٹھٹا اڑاتے ہیں۔ یہ لوگ طنز کرتے ہیں کہ مفتی عبدالرحیم اس لیے افغان طالبان کے مخالف ہیں کہ انہوں نے مفتی صاحب کا سامان سوٹ کیس وغیرہ ضبط کر لیا اور مفتی صاحب کو فوری ڈی پورٹ کر دیا۔
جے یوآئی کے یہ سادہ، ناخواندہ لوگ سوشل میڈیا پر اس بات پر مذاق بنایا کرتے ہیں، حالانکہ یہ باعث فخر بات ہے۔ ایک شخص کو صرف اس بنیاد پر افغان طالبان دشمنی اور مخالفت کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ یہ پاکستان کا ہمدرد ، مخلص اور وفادار ہے اور ہمارا ایجنٹ بننے کو آمادہ نہیں۔ تو یہ باعثِ فخر بات ہے، باعثِ عزت اور باعثِ توقیر ہے۔ پاکستانی قوم کو ایسے شخص کو تو سیلوٹ کرنا چاہیے جس نے پاکستان کو ترجیح دی اور اپنے وطن، اپنے دیس کی خاطر یہ طنز، طعنے برداشت کئے۔
خیر تو بتانا یہ تھا کہ انہی افغان طالبان لیڈروں ملا برادر، ملا جلیل اور دیگر لیڈروں کو مفتی عبدالرحیم صاحب نے کراچی کے 2 دیگر ممتاز علما دین کے ساتھ مل کر، کوشش کر کے اہم حلقوں تک رسائی دلائی۔ افغان طالبان لیڈروں نے تب مقتدر حلقوں اور اداروں کو یقین دہانی دلائی کہ ہم پاکستان میں مسلح جدوجہد کو غیر شرعی اور ناجائز سمجھتے ہیں اور اس کے شدید مخالف ہیں۔
اس دور میں افغان طالبان کے یہی رہنما پاکستانی اداروں سے مسلسل تعاون، تحفظ اور سہولتوں کے خواہاں تھے اور واضح یقین دہانیاں کراتے تھے کہ وہ پاکستان میں کسی بھی مسلح سرگرمی کے مخالف رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تحفظ اور سپورٹ دیں، امریکی ایجنٹوں سے پناہ دلائیں اور ہمیں گوریلا تحریک چلانے دیں۔ جب ہم برسراقتدار آ جائیں گے تو انتہائی پرامن اور بہترین ہمسایہ کے طور پر رہیں گے۔
یہی ملا ہبت اللہ، جو آج اقتدار کے مقام پر بیٹھ کر سخت گیر اور غیر لچکدار رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، اس دور میں پاکستانی حکام کو مسلسل یقین دہانیاں کراتے تھے کہ افغانستان میں حکومت قائم ہوتے ہی ٹی ٹی پی کا مسئلہ حل کر دیا جائے گا۔ پاک افغان بارڈر محفوظ اور پرامن ہوجائے گی وغیرہ وغیرہ۔ آج ان سب کا طرزعمل جو ہے، وہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ : (یہ کہانی طویل بھی ہے اور اس کے کئی پہلو اور پرتیں ہیں۔ اس بار اللہ نے چاہا تو کھل کر بات ہوگی۔ ایک نشست میں یہ نمٹائی نہیں جا سکتی۔ اس لیے اس کا اگلا حصہ بھی قارئین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں افغان طالبان کی کہانی پاکستانی طالبان کی کہانی سے جڑنے لگتی ہے۔ اس میں ٹی ٹی پی کی کہانی ہوگی، اس کے موجودہ سربراہ مفتی نور ولی محسود کا قصہ بھی بیان ہوگا اور یہ بھی کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کہاں اور کس جگہ پر اکھٹے ہوئے، کون سا نکتہ ایسا تھا جہاں پر انہوں نے ہاتھ ملا لیے اور آج یہ سب پاکستان کے خلاف کیوں سرگرم ہیں؟
ٹی وی چینلز کی اصطلاح میں ہمارے ساتھ جڑے رہیں، ساتھ رہیں۔ جلد ہی پھر ملتے ہیں۔ ان شاء اللہ۔ )
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












