امریکی ادارہ برائے انسداد امراض (سی ڈی سی) کے ذیلی ادارے سینٹرز فار ہیلتھ اسٹیٹسٹکس کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکا میں اوسط متوقع عمر 2024 میں بڑھ کر 79 سال ہو گئی ہے جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گنیز ریکارڈ یافتہ دنیا کی سب سے عمر رسیدہ خاتون نے طویل عمری کا راز بتادیا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوسط عمر میں یہ اضافہ صرف کوویڈ 19 وبا کی شدت میں کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ دل کے امراض، کینسر اور منشیات کے زیادہ استعمال (ڈرگ اوور ڈوز) جیسے بڑے اسباب اموات میں کمی کے باعث بھی ممکن ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق اوسط متوقع عمر کسی بھی آبادی کی مجموعی صحت کا ایک اہم اشاریہ ہوتی ہے جو اس بات کا اندازہ لگاتی ہے کہ کسی مخصوص سال میں پیدا ہونے والا بچہ موجودہ اموات کی شرح کو مدِنظر رکھتے ہوئے اوسطاً کتنے سال زندہ رہ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کئی دہائیوں تک امریکا میں اوسط عمر مسلسل بڑھتی رہی تاہم کوویڈ 19 وبا سے قبل چند برسوں تک اس میں جمود رہا جبکہ وبا کے دوران یہ شرح نمایاں طور پر کم ہو گئی تھی۔ اس وبا کے نتیجے میں امریکا میں 12 لاکھ سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
مزید پڑھیے: امریکا میں 30 سال سے منجمد ایمبریو سے بچے کی پیدائش، دنیا کے پہلے عمر رسیدہ بچےکی آمد
بوسٹن یونیورسٹی کے ایک محقق کے مطابق موجودہ اعداد و شمار وبا سے مکمل بحالی کی عکاسی نہیں کرتے، تاہم منشیات کے استعمال سے ہونے والی اموات پر قابو پانے میں مسلسل پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین میں پیدائش کے وقت اوسط متوقع عمر 81.7 سال ریکارڈ کی گئی ہے جو سنہ 2024 کے ابتدائی اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
یورونیوز کے مطابق دل کے امراض اگرچہ اب بھی اموات کی بڑی وجہ ہیں تاہم جدید طبی علاج اور وزن کنٹرول سے متعلق اقدامات کے باعث مسلسل دوسرے سال اموات کی شرح میں تقریباً 3 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 میں امریکا میں تقریباً 30 لاکھ 50 ہزار اموات ریکارڈ کی گئیں جبکہ سال 2025 کے حتمی اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کیے گئے۔
مزید پڑھیں: کیا عمر رسیدہ افراد میں سماعت کی کمی ڈیمینشیا کا باعث بن سکتی ہے؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سنہ 2024 میں اموات کی شرح میں گزشتہ برس کے مقابلے میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔














