عوامی سروے: بنگلہ دیش کے اگلے وزیراعظم کے لیے اکثریت نے کس کا نام لیا؟

جمعہ 30 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے تقریباً نصف ووٹرز سمجھتے ہیں کہ مرحومہ خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان مستقبل میں ملک کے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین مقرر

یہ نتائج نجی کنسلٹنگ فرم ’انوویشن کنسلٹنگ‘ کے تیسرے راؤنڈ کے پیپلز الیکشن پلس سروے میں سامنے آئے ہیں۔

سروے کے مطابق 47.6 فیصد شرکا نے طارق رحمان کو مستقبل کے وزیرِ اعظم کے طور پر منتخب ہونے کے امکانات زیادہ قرار دیا جو عام انتخابات کے قریب آتے ہوئے بی این پی کی حمایت میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی وابستگیاں تبدیل ہو رہی ہیں اور وہ ووٹرز جو پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیزن پارٹی کی حمایت کرتے تھے اب بی این پی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

خاص طور پر عوامی لیگ کے سابقہ حمایتیوں میں سے بھی کئی بی این پی کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سروے میں بتایا گیا کہ 22.5 فیصد شرکا نے جماعت اسلامی کے چیئرمین شفیق الرحمان کو وزیر اعظم کے طور پر جبکہ 2.7 فیصد نے ناہید اسلام کا نام لیا۔ تقریباً 22.2 فیصد ووٹرز ابھی فیصلہ نہیں کر سکے۔

مزید پڑھیے: خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے طارق رحمان کو چیئرمین مقرر کر دیا

سروے 16 تا 27 جنوری کے دوران ملک کے 64 اضلاع کے شہری اور دیہی علاقوں میں 5,147 انٹرویوز کے ذریعے کیا گیا۔ شرکا سے ووٹر ٹرن آؤٹ، ریفرنڈم سے آگاہی، قانون و انتظام، انتخابات کی غیرجانبداری، ووٹنگ کے ارادے اور پارٹی کی ترجیحات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

اگر فوری انتخابات کرائے جائیں تو 52.9 فیصد شرکا نے کہا کہ ان کے علاقوں میں بی این پی کے امیدوار جیتیں گے جو پچھلے سروے کے مقابلے میں 7.5 فیصد کا اضافہ ہے۔ جماعت اسلامی کی حمایت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ سابقہ عوامی لیگ ووٹرز میں سے 32.9 فیصد اب BNP کی حمایت کر سکتے ہیں، جبکہ 13.2 فیصد جماعت اسلامی کی حمایت کر سکتے ہیں۔ تقریباً 41 فیصد ووٹرز ابھی فیصلہ نہیں کر سکے۔

سروے نے آئندہ آئینی اصلاحات کے ریفرنڈم کو بھی کور کیا، جو عام انتخابات کے ساتھ شیڈول ہے۔ تقریباً 60 فیصد شرکاء نے ریفرنڈم میں “ہاں” ووٹ دینے کا کہا، جبکہ 22 فیصد اس سے لاعلم تھے۔

مزید پڑھیں: بی این پی کا پہلا انتخابی جلسہ، طارق رحمان کی قیادت میں ‘جمہوری اور خوشحال بنگلہ دیش’ کا وعدہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج BNP کے لیے بڑھتی حمایت اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان ملک میں سیاسی لچک اور طاقت کے نئے توازن کی عکاسی کرتے ہیں، جو بنگلہ دیش کے تیرہویں پارلیمانی انتخابات کے قریب اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

5 پاؤنڈز کا عطیہ جیب میں ڈالنے کا معاملہ، ابرار الحق اور صحافی سفینہ خان کے درمیان تکرار کی ویڈیو وائرل

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟