خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے طارق رحمان کو چیئرمین مقرر کر دیا

جمعہ 9 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے باضابطہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔

یہ عہدہ سابق وزیر اعظم اور بی این پی کی چیئرمین خالدہ ضیاء کے انتقال کے بعد خالی ہوا تھا جس پر اب ان کے بیٹے کو نامزد کیا گیا ہے۔

پارٹی آئین کے مطابق قیادت کی تبدیلی کے لیے بی این پی کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر طارق رحمان کے نام کی منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: ڈھاکا: پاکستان کے ہائی کمشنر کی بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے ملاقات

اس فیصلے کے ساتھ ہی طارق رحمان نے پارٹی آئین کے تحت باضابطہ طور پر بی این پی کے چیئرمین کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، جس سے پارٹی قیادت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے عبوری چیئرمین طارق رحمان 17 سالہ جلاوطنی کے بعد گزشتہ دنوں واپس اپنے وطن پہنچ گئے تھے۔ ان کی آمد پر دارالحکومت ڈھاکا اور سلیٹ میں حامیوں نے جوش و خروش کے ساتھ استقبال کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا