برطانیہ کے ایک بائیں بازو کے تھنک ٹینک نے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی جانے والی خبروں پر واضح لیبلنگ کی جائے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے سسٹمز میں صحافتی مواد کے استعمال کے عوض پبلشرز کو ادائیگی کریں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی تعصب پر تحقیق: چیٹ جی پی ٹی آمرانہ خیالات اپنا سکتا ہے
انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ (آئی پی پی آر) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی کمپنیاں تیزی سے آن لائن معلومات کی نئی نگہبان (گیٹ کیپرز) بنتی جا رہی ہیں اس لیے اے آئی کے دور میں صحت مند نیوز ماحول کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اے آئی کے ذریعے فراہم کی جانے والی خبروں اور جوابات پر نیوٹریشن لیبل کی طرز پر لیبل لگایا جائے جس میں واضح کیا جائے کہ معلومات کن ذرائع سے لی گئی ہیں، جیسے کہ تحقیقی جرائد یا پیشہ ورانہ نیوز ادارے۔ اس کے علاوہ آئی پی پی آر نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ میں ایک لائسنسنگ نظام متعارف کرایا جائے جس کے تحت پبلشرز اے آئی کمپنیوں کے ساتھ اپنے مواد کے استعمال پر ادائیگی کے لیے مذاکرات کر سکیں۔
آئی پی پی آر کی سینیئر ریسرچ فیلو روا پاول نے کہا کہ اگر اے آئی کمپنیاں صحافت سے منافع کماتی ہیں اور عوامی فہم پر اثر انداز ہوتی ہیں تو انہیں منصفانہ ادائیگی کرنی ہوگی اور ایسے واضح قوانین کی پابندی کرنی چاہیے جو اعتماد، تنوع اور خبروں کے طویل مدتی مستقبل کا تحفظ کریں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی کمپیٹیشن اینڈ مارکیٹس اتھارٹی اس ضمن میں خاص طور پر گوگل پر اپنے نئے اختیارات کے تحت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ حال ہی میں سی ایم اے نے تجویز دی ہے کہ پبلشرز کو گوگل کو اے آئی اوورویوز کے لیے اپنے مواد کی اسکریپنگ سے روکنے کا اختیار دیا جائے جسے آئی پی پی آر وسیع تر اجتماعی لائسنسنگ معاہدوں کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیے: کیا ہم خبروں کے حوالے سے مصنوعی ذہانت پر اعتبار کرسکتے ہیں؟
رائٹرز انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف جرنلزم کے مطابق گوگل کے اے آئی اوورویوز ماہانہ تقریباً 2 ارب صارفین تک پہنچتے ہیں، جبکہ ہر 4 میں سے ایک شخص معلومات حاصل کرنے کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کر رہا ہے۔
آئی پی پی آر نے اپنی تحقیق کے دوران چیٹ جی پی ٹی، گوگل اے آئی اوورویوز، گوگل جیمنائی اور پرپلیکسیٹی کو 100 نیوز سے متعلق سوالات پر آزمایا۔
نتائج سے پتا چلا کہ لائسنسنگ معاہدے اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ کن پبلشرز کا حوالہ دیا جاتا ہے جس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ چھوٹے اور مقامی نیوز ادارے نظرانداز ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لائسنسنگ اشتہاری آمدنی میں کمی کے اثرات کم کرنے کا ایک ذریعہ تو ہو سکتی ہے لیکن یہ مکمل حل نہیں۔
مزید پڑھیں: ذہنی مسائل میں مصنوعی ذہانت کا کردار، ماہرین نے خبردار کردیا
تھنک ٹینک نے سفارش کی ہے کہ تحقیقی اور مقامی صحافت کے فروغ کے لیے عوامی فنڈز بھی استعمال کیے جائیں۔














