وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور و سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو 2027 میں الیکشن کی پیشکش والی بات درست نہیں، البتہ ہم نے یہ پیشکش ضرور کی ہے کہ پی ٹی آئی سسٹم پر جو باہر سے اٹیک کرتی ہے اور سسٹم کو گرانا چاہتی ہے، یہ رویہ ختم کرے اور پارلیمان میں آکر اپنا مؤقف پیش کرے۔
یہ بھی پڑھیں: میثاق جمہوریت کا مسودہ سامنے آئے گا تو دیکھیں گے، رانا ثنااللہ کا پی ٹی آئی کی پیشکش پر جواب
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا رویہ ریاست کو بلڈوز اور بلیک میل کرنے جیسا ہے، انہوں نے امریکا میں پاکستان کے خلاف ملاقاتوں کے ذریعے مہم بھی چلائی، پھر وہاں اشتہار بھی چھپتے رہے، پھر وہاں پر لابیز ہائر کی گئیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ جو ملک کے اندر اور بیرونِ ملک بیٹھے ہیں، وہ جس قسم کا بیانیہ ملک اور ملکی اداروں کے خلاف بنا رہے ہیں، اور پھر ملاقاتوں کے بعد جیسا کہ عظمیٰ خان نے ملاقات کے بعد کیا، انہیں ملاقات سے قبل جیل سپرنڈنٹ نے ہائیکورٹ کا حکم سامنے رکھا کہ اس حکم کے تحت آپ کی ملاقات ریگولیٹ ہونی ہے، انہیں بتایا گیا کہ ملاقات کے بعد آپ یہ کام باہر آکر نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ عظمیٰ خان کی تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سے ملاقات ہوئی، عظمیٰ خان نے باہر آکر میڈیا میں جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے، پی ٹی آئی ہر بار گارنٹی دیتی ہے لیکن باہر آکر پی ٹی آئی رہنما گارنٹی کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اب اگر وہ گارنٹی دیتے ہیں تو اس عدالت کو کیوں نہیں دیتے جس نے ملاقاتوں سے متعلق فیصلہ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جیل میں قیدیوں کو حاصل تمام سہولتیں ملنی چاہئیں، اگر جیل کے ڈاکٹر نے تجویز کیا کہ عمران خان کی آنکھ کا معائنہ پمز اسپتال میں اسپیشلسٹ سے ہونا چاہیے تو یہ بالکل ایک اچھا عمل ہے، عمران خان پمز میں جو بھی علاج ہونا تھا ہو گیا، اگر عمران خان کی فیملی کو اس علاج پر اعتماد نہیں ہے تو عدالت میں جا سکتی ہے اور عدم اعتماد کا اظہار کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے کہا کہ وہ عشقِ عمران میں مارے جائیں گے، ان کا رویہ ایسے ہے جیسے وہ جیل کی دیواریں گرا کر عمران خان سے ملاقات کریں گے، ان کا اپنا رویہ درست کرنا چاہیے۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ ٹھیک ہے پی ٹی آئی رہنما عمران خان سے پیار کا اظہار کریں لیکن وہ ایک سیاسی پارٹی کے طور پر رویہ رکھیں، اگر انہوں نے ایک صوبے میں حکومت قائم کی ہے تو صوبائی حکومت کی قانونی اور آئینی ذمہ داریاں ہیں، ان ذمہ داریوں سے انہیں عہدہ برا ہونا چاہیے، وفاق سے تعاون کرنا چاہیے، ان کا رویہ درست نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ہمدردی کارڈ کھیل رہی ہے، این آر او نہیں ملے گا : طلال چوہدری
انہوں نے پی ٹی آئی کو قبل از وقت انتخابات اور الیکشن اصلاحات سے متعلق پیشکش کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ایک سال قبل الیکشن کی پیشکش والی بات درست نہیں ہے، لیکن ہم نے پی ٹی آئی کو بارہا پیشکش کی کہ وہ اسمبلیوں میں آئے اور اسمبلیوں میں بات کرے، آپ سسٹم پر جو اٹیک کرتے ہیں اور سسٹم کو گرانا چاہتے ہیں، یہ رویہ آپ ختم کریں اور سسٹم میں رہ کر اپنی بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ آزادی پر سب سیاسی جماعتوں کو پیغام دیا تھا کہ آئیں مل کر استحکامِ پاکستان پر کام کریں، عسکری قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی، اگر استحکامِ پاکستان کے لیے یہ مل بیٹھتے ہیں تو باقی معاملات کے لیے بھی بات ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے واقعات میں ہماری فورسز کے 30، 30 جوان شہید ہوتے ہیں، پی ٹی آئی نے کبھی اس پر مذمتی ٹویٹ تک نہیں کیا۔














