ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے گزشتہ سال 15 سے 16 ارب ڈالر آمدن پر تقریباً 8 ارب ڈالر منافع کمایا۔
رپورٹ کے مطابق یہ منافع ای بی آئی ٹی ڈی اے کی بنیاد پر ہے، جو کمپنی کی آپریٹنگ کارکردگی کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اسپیس ایکس کی آمدن کا بڑا حصہ اس کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ منصوبے اسٹارلنک سے حاصل ہو رہا ہے، جو کل آمدن کا تقریباً 50 سے 80 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسپیس ایکس کی مالیت 2026 میں 1.5ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، ایلون مسک
2019 کے بعد سے اب تک 9,500 اسٹارلنک سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جا چکے ہیں، جس کے بعد اسپیس ایکس دنیا کی سب سے بڑی سیٹلائٹ آپریٹر بن چکی ہے۔ اسٹارلنک کے صارفین کی تعداد 90 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسٹارلنک اور اس سے منسلک سرکاری و عسکری منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن کمپنی کے نئے اسٹار شپ راکٹ کی تیاری میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
اسپیس ایکس نے گزشتہ سال ایکو اسٹار سے 19 ارب ڈالر مالیت کے وائرلیس اسپیکٹرم حقوق بھی خریدے، تاکہ موبائل فونز کو براہِ راست سیٹلائٹس سے منسلک کرنے کے منصوبے کو وسعت دی جا سکے۔
رپورٹس کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس اپنے آئی پی او کا اعلان ایلون مسک کی 55ویں سالگرہ، 28 جون کے قریب کر سکتی ہے۔ مسک کو توقع ہے کہ اسٹار شپ راکٹ رواں سال باقاعدہ طور پر خلا میں سامان لے جانا شروع کر دے گا، جسے مستقبل میں خلا میں قائم اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے بھی استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک نے اے آئی کو ’سپر سونک سونامی‘ قرار دے دیا، ان کی وارننگ کیا ہے؟
رائٹرز کے مطابق اسپیس ایکس، ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی xAI کے ساتھ ممکنہ انضمام پر بھی بات چیت کر رہی ہے، تاہم کمپنی نے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔














