امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خفیہ طور پر ایران کو ایک ڈیڈ لائن دی ہے، جس سے قبل جوہری معاہدہ قبول نہ کرنے کی صورت میں بڑی فوجی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ڈیڈ لائن دیے جانے کے بعد خطے میں امریکی فوجیوں کی نقل و حرکت تیز کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران مقررہ وقت میں جوہری معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔
اسی تناظر میں تازہ پیشرفت کے طور پر ایک امریکی میزائل بردار تباہ کن بحری جہاز اسرائیل کے بحیرہ احمر کے شہر ایلات کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوگیا ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے جوڑا جارہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ڈیڈ لائن کی مدت ظاہر نہیں کی اور کہا کہ اس کی تفصیلات صرف انہیں معلوم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے معاہدہ ہوجائے گا، بصورت دیگر آئندہ کے حالات خود واضح کردیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’امریکا ایران کی طاقت کو سمجھنے میں ناکام‘
دوسری جانب ایرانی نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت اپنے جوہری اور دفاعی پروگرام پر نظرثانی نہیں کرے گا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ یورینیم افزودگی، میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیتوں پر کسی قسم کا سمجھوتا قبول نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ امریکا ایران سے یورینیم افزودگی پر پابندی، پہلے سے افزودہ یورینیم کی بیرونِ ملک منتقلی، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذخیرے پر حد بندی اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت میں کمی کا مطالبہ کرتا رہا ہے، ایران ان تمام نکات کو پہلے ہی ناقابل قبول قرار دے چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات نہیں ہوگی، ایران
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکیہ کے دورے کے دوران بھی اس مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ ایران کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گی، ان کے مطابق ایران باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم قومی دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
عباس عراقچی نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نہ صرف برقرار رکھے گا بلکہ قومی ضروریات کے مطابق ان میں مزید اضافہ بھی کرے گا۔














