ملکی معیشت کو سہارا دینے اور صنعتی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حال ہی میں صنعتوں کے لیے بجلی کے فی یونٹ نرخ میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد پیداواری لاگت میں کمی، برآمدات کے فروغ اور صنعتوں کو بین الاقوامی سطح پر مسابقتی بنانا ہے، جسے کاروباری حلقوں نے ایک مثبت اور بروقت قدم قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران متعدد صنعتیں بند ہو چکی ہیں، جس سے ملکی کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور روزگار کے مواقع بھی کم ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور صنعتی مالکان کو بڑا ریلیف دینے کی تیاریاں
مگر کیا اس حکومت کے اس اقدام سے پاکستان میں زوال کا شکار صنعتیں بحال ہو سکتی ہیں؟
واضح رہے کہ قریباً جولائی 2024 سے دسمبر 2025 تک کی مدت کے دوران صنعت کار تنظیموں کے 150 سے زیادہ صنعتی یونٹس نے مستقل طور پر کام چھوڑ دیا ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل سیکٹر میں۔
بجلی کی قیمتوں میں کمی صنعتی شعبے کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار
معاشی ماہر راجا کامران کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صنعتوں کے لیے بجلی کے فی یونٹ نرخ میں 4.4 روپے کمی کا حالیہ اعلان صنعتی شعبے کی بحالی کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداوار کی موجودہ صلاحیت مکمل طور پر استعمال نہیں ہو رہی، اور کئی پلانٹس اپنی پوری پوٹینشل پر کام نہیں کر رہے۔
راجا کامران کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں انڈسٹریل آؤٹ پٹ میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ موجودہ بیس پر زیادہ بہتر یوز کے ذریعے بجلی کے اضافی چارجز میں کمی آئے گی، اور بے کار پڑے کارخانے اپنی مکمل پیداوار پر کام کر سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہاکہ اس اقدام سے صرف بجلی کے نرخ کم نہیں ہوں گے بلکہ ملکی صنعتی پیداوار اور توانائی کی افادیت میں بھی بہتری آئے گی۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق مستحکم بنانے کے لیے نہ صرف مقامی کھپت میں اضافہ ناگزیر ہے بلکہ برآمدات کے فروغ پر بھی بھرپور توجہ دینا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سولر اور کیپٹو پاور جیسے متبادل توانائی کے ذرائع اپنانے سے بجلی کی پیداوار کی لاگت کم کی جا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی شعبے کی مسابقتی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔
راجا کامران کے مطابق یہ اقدامات طویل مدتی صنعتی ترقی اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔
’بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کے اثرات محدود ہو سکتے ہیں‘
تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صنعتوں کے لیے بجلی کے فی یونٹ نرخ میں کمی اہم اقدام ہے، لیکن اس کے اثرات محدود ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اگر فی یونٹ بجلی قریباً 34 سے 35 روپے سے 4 روپے کم ہو کر 30 روپے تک آ جاتی ہے، تو اس سے صنعتی پیداوار اور قیمتوں پر خاطر خواہ فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ ملکی مصنوعات کی قیمتیں اب بھی درآمد شدہ اشیا کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
عتیق میر کے مطابق اس وقت صارفین عموماً کم قیمت اور بہتر معیار کی اشیا کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ملکی مصنوعات کو زیادہ پذیرائی نہیں مل رہی۔
عتیق میر نے مزید کہاکہ بجلی کی قیمت میں کمی کے ساتھ ساتھ ٹیکسز اور دیگر ریگولیٹری چارجز کو بھی کم کرنا ضروری ہے، تاکہ ملکی صنعتیں زیادہ مسابقتی بن سکیں اور صارفین کی ترجیح میں آ سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی مصنوعات کی موجودہ قیمتیں اور اضافی ٹیکسز ملکی مصنوعات کے مقابلے میں درآمد شدہ اشیا کو سستا اور زیادہ پرکشش بنا دیتے ہیں، جس کی وجہ سے لوکل صنعت کے فروغ میں رکاوٹ آ رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو جامع اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ نہ صرف بجلی کے نرخ کم ہوں بلکہ صنعتی مصنوعات کی قیمت اور معیار کے حوالے سے بھی توازن پیدا کیا جا سکے۔
’بجلی کی قیمتیں کم کرنا صنعتی شعبے کے بنیادی مسائل کا حل نہیں‘
مسعود خان جو اسلام میں بورنگ مشینز کے پارٹس بنانے والے پلانٹ کے مالک ہیں، نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بجلی کے فی یونٹ نرخ میں 4 روپے کمی کو خوش آئند اقدام قرار دیا ہے۔
تاہم ان کے مطابق یہ اقدام صنعتی شعبے کے بنیادی مسائل کا حل نہیں ہے اور صرف بجلی سستی کرنے سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ متوقع نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی صنعتیں اپنی پیداوار کی مکمل صلاحیت پر کام نہیں کر رہیں، اس کی بڑی وجہ ٹیکسز اور اضافی چارجز کی زیادہ شرح ہے، جس سے پیداواری لاگت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔
’نتیجتاً، فیکٹریاں اپنی مکمل صلاحیت استعمال نہیں کر پارہی ہیں اور بجلی کی قیمت میں کمی کے باوجود پیداوار میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئے گی۔‘
مسعود خان نے یہ بھی واضح کیاکہ حکومت کو صرف بجلی کی قیمتوں پر توجہ دینے کے بجائے ٹیکس پالیسی، درآمدات پر انحصار، اور صنعتی ترغیبات جیسے دیگر اہم عوامل پر بھی مربوط اور واضح حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ ان کے بقول اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو مقامی صنعتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں گی۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو صنعتوں کے لیے کاروباری ماحول کو زیادہ سہل، شفاف اور سرمایہ کاری دوست بنانا ہوگا۔
مسعود خان کا مؤقف یہ واضح کرتا ہے کہ طویل مدتی بنیادوں پر صنعتی پیداوار اور ملکی معیشت کی مضبوطی کے لیے بجلی کی قیمت کم کرنے کے ساتھ ساتھ مکمل اور مربوط پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
’بجلی کی قیمتیں کم کرنے سے عارضی طور پر پیداواری لاگت میں کمی ہو سکتی ہے‘
محمد ناصر راجپوت فیصل آباد کی ایک ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ ہیں، جنہوں نے حکومت کے بجلی کے فی یونٹ نرخ کم کرنے کے حالیہ اقدام پر بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ اقدام یقینی طور پر خوش آئند ہے اور عارضی طور پر پیداواری لاگت میں کمی لا سکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف اس سے پاکستان میں زوال کا شکار صنعتیں بحال ہو سکتی ہیں؟
ان کے بقول ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش بنیادی مسائل بجلی کی قیمت سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ ’پاکستان میں بہت سی فیکٹریاں اپنی مکمل پیداوار کی صلاحیت سے صرف 30 سے 50 فیصد تک کام کر رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ بڑھتے ہوئے ٹیکسز، اضافی چارجز، درآمدی انحصار اور غیر مستحکم کاروباری ماحول ہے۔
محمد ناصر راجپوت نے واضح کیاکہ صنعتوں کو مستحکم کرنے کے لیے صرف بجلی کے نرخ کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق حکومت کو ٹیکس اصلاحات، صنعتی ترغیبات، آسان قرضوں کی فراہمی اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں پر فوری توجہ دینا ہوگی۔
’18 ماہ کے دوران ملک بھر میں 150 سے زیادہ صنعتی یونٹس بند ہو چکے‘
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہاکہ حالیہ اقدام اکثر میڈیا میں صنعتی ریلیف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں اگر دیگر بنیادی رکاوٹیں حل نہ کی جائیں تو یہ اقدامات عارضی اور محدود اثرات مرتب کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلے 18 ماہ میں ملک بھر میں 150 سے زیادہ صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل سیکٹر میں، اور بہت سی فعال فیکٹریاں بھی اپنی مکمل صلاحیت سے کام نہیں کر رہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا 5 سالہ صنعتی پالیسی کا اعلان، سپر ٹیکس میں 3 فیصد کمی
محمد ناصر راجپوت کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایک جامع اور مربوط صنعتی پالیسی اپنانا ہوگی، ورنہ صرف سستی بجلی کے ذریعے صنعت کی بحالی ممکن نہیں ہوگی اور پاکستان کی ٹیکسٹائل اور دیگر بنیادی صنعتیں عالمی مسابقت میں پیچھے رہ جائیں گی۔














