امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت ایران کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا اور اس حوالے سے ایک معاہدے کا تصور پہلے ہی طے پا چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن سے فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ جاتے ہوئے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم یہ معاہدہ پہلے ہی کر چکے ہیں، کم از کم اس کے خدوخال طے ہو چکے ہیں۔ ان کے بیان سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا نے نئی دہلی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ جلد روسی تیل کی درآمدات کے متبادل کے طور پر وینزویلا سے تیل کی خریداری دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ اور چین نے طویل المدتی شراکت داری پر اتفاق کرلیا، ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیاں بے اثر
واضح رہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث بھارت طویل عرصے سے ایران سے نمایاں مقدار میں تیل درآمد نہیں کر رہا، تاہم 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روسی تیل سستا ہونے پر بھارت اس کا بڑا خریدار بن گیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں روسی تیل کی خریداری روکنے کے لیے بھارت پر درآمدی محصولات 50 فیصد تک بڑھا دیے تھے اور اس ماہ کے آغاز میں خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے روس سے تیل کی خرید کم نہ کی تو ٹیرف مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ تاہم جنوری میں امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے عندیہ دیا تھا کہ بھارتی درآمدات پر اضافی 25 فیصد ٹیرف ہٹایا جا سکتا ہے، کیونکہ بھارت نے روسی تیل کی خرید میں نمایاں کمی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 50 فیصد ٹیرف کی وجہ روسی تیل نہیں مودی کی ہٹ دھرمی بنی، سابق گورنر اسٹیٹ آف انڈیا کا دعویٰ
ٹرمپ نے مارچ 2025 میں وینزویلا سے تیل خریدنے والے ممالک، بشمول بھارت، پر بھی 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، تاہم رواں ہفتے امریکا نے وینزویلا کی تیل کی صنعت پر بعض پابندیاں نرم کر دی ہیں۔














