وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمان میں جمع کرائی گئی سرکاری قرضہ جاتی پالیسی رپورٹ میں عوامی قرض کے قانونی حد سے تجاوز کرنے کے اعتراف پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان کا کل عوامی قرض بڑھ کر 80.5 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق عوامی قرض مجموعی قومی پیداوار کے 70.7 فیصد کے برابر ہو چکا ہے، جبکہ قانونی حد 56 فیصد مقرر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ہر پاکستانی پر قرضے کا بوجھ 13 فیصد بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار روپے ہو گیا، وزارتِ خزانہ کا انکشاف
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح عوامی قرض قانونی حد سے 16.8 کھرب روپے یا 14.7 فیصد تجاوز کر گیا ہے، جو مالیاتی نظم و ضبط کی کھلی خلاف ورزی اور حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کا ثبوت ہے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے باعث وفاقی بجٹ کا تقریباً 50 فیصد حصہ صرف سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں تعلیم، صحت، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل محدود ہو چکے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹیکس وصولی کے اہداف بھی بری طرح ناکام رہے ہیں۔ رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں ٹیکس آمدن 7.174 کھرب روپے رہی، جو نظرثانی شدہ ہدف سے 347 ارب روپے کم ہے، جبکہ سالانہ بنیادوں پر ٹیکس آمدن میں صرف 10.5 فیصد اضافہ ہوا، جو مطلوبہ شرح سے کہیں کم ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بی آر ٹی منصوبوں کے لیے مہنگے قرضوں کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر
پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ یہ صورتحال فارم 47 کے نتیجے میں قائم ہونے والی غیر نمائندہ حکومت اور نااہل وزیر خزانہ کی ناکام کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ پارٹی کے مطابق موجودہ حکومت عوام کی منتخب نمائندہ نہیں، اسی لیے اسے عوام کے مسائل، مہنگائی اور ملکی معیشت کے مستقبل سے کوئی سروکار نہیں۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ حکومتی پالیسیاں صرف اقتدار کے تحفظ اور اشرافیہ کے مفادات کے گرد گھوم رہی ہیں، جبکہ عوام کو قرض، مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے، جو ملک کو تاریخ کے بدترین مالیاتی بحران کی جانب دھکیل رہا ہے۔














