پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیلی اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں ناقابلِ قبول ہیں، جن کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔
مذید پڑھیں: غزہ میں شہدا کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر گئی، جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، مصر، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن اور انڈونیشیا نے دستخط کیے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی حملے خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں امن عمل کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا کہ ان اقدامات سے عالمی اور علاقائی سطح پر جاری کوششوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
اسلامی ممالک نے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی کامیابی پر زور دیتے ہوئے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
اعلامیے میں سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں تمام فریقین سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی، جبکہ غزہ میں بحالی، تعمیرِ نو اور پائیدار امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی جارحیت غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، پاکستان
آٹھوں ممالک نے عرب امن منصوبے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ امن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیاکہ خطے میں امن کے لیے جنگ بندی کا برقرار رہنا ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔














