صدر ورلڈ بینک اجے پال سنگھ بنگا 4 روزہ اہم دورے پر پاکستان میں موجود ہیں، جنہون نے پاکستان میں کئی سرکاری اور ثقافتی مقامات کا دورہ کیا ہے، ان کا دورہ یکم فروری کو شروع ہوا اور وہ 4 فروری تک پاکستان میں قیام کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک پاکستان میں 10 سال میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کرے گا، وزیراعظم
اس دوران وہ وزیراعظم، نائب وزیراعظم، وزیر خزانہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کریں گے، جبکہ اقتصادی اصلاحات، ترقیاتی تعاون اور علاقائی منصوبوں پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

دورے کے سلسلے میں اتوار کے ورز اجے بنگا نے گوردوارہ سری پنجہ صاحب حسن ابدال میں مذہبی رسومات ادا کیں، جہاں انہیں سکھ کمیونٹی نے سِروپا پیش کیا۔
اس کے بعد ان کے وفد نے خانپور میں واقع قدیم بدھ مت آثارِ قدیمہ مقام جولیاں اسٹوپہ کا بھی دورہ کیا، جس کی میزبانی سیکریٹری ٹورزم ڈاکٹر عبدالصمد، کمشنر ہزارہ، ڈپٹی کمشنر ہری پور، ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن، ڈی پی او ہری پور، اسسٹنٹ کمشنر خان پور، سید نیاز علی باچا اور جولیاں اسٹوپہ کے سائٹ انچارج راجہ عدنان نے کی۔

مہمانوں کو ڈاکٹر عبدالصمد نے جولیاں اسٹوپہ کے حوالے سے بریف کیا اور بتایا کہ یہ ایک قدیم بدھ مت یونیورسٹی اور خانقاہ ہے، جس کی تاریخ دوسری صدی عیسوی تک جاتی ہے۔ اس مقام پر مرکزی اسٹوپہ، متعدد چھوٹے چبوتروں اور صومعوں کے نقوش آج بھی موجود ہیں، جو گندھارا تہذیب کے آثار کو ظاہر کرتے ہیں۔

دورے کے دوران اجے بنگا اور ان کے وفد نے جیالوجی اور آثار قدیمہ کے شعبوں سے متعلق مزید سائٹس کا بھی معائنہ کیا اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے جاری کاموں کا جائزہ لیا۔

خیبر پختونخوا آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے متعدد آثار قدیمہ مقامات کی بحالی، تحفظ اور ڈیجیٹل دستاویزی منصوبوں پر کام جاری رکھا ہوا ہے، جس میں بدھ مت دور کے متعدد قدیم مقامات کی دستاویزی نگرانی اور نمونوں کی حفاظت شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی
اجے بنگا کی آمد نہ صرف حکومت اور عالمی بینک کے ترقیاتی ایجنڈے کو اجاگر کرتی ہے بلکہ پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی اثاثوں پر بین الاقوامی توجہ بھی بڑھاتی ہے۔













