وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافے اور صحت کی سہولیات کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کو 13 خطرناک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ٹیکے لگائے جاتے ہیں جن میں پولیو بھی شامل ہے، مگر بدقسمتی سے اس حوالے سے اب بھی سنجیدگی کا فقدان ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی آبادی میں اس سال کتنا اضافہ ہوا؟
انہوں نے آبادی میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘دنیا میں شرحِ پیدائش 2 فیصد ہونی چاہیے، اس سے زیادہ ہو تو ترقی ممکن نہیں رہتی، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 3.6 فیصد ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ہر سال نیوزی لینڈ سے زیادہ آبادی پیدا کر رہے ہیں، لیکن جب آبادی کنٹرول کی بات کی جاتی ہے تو اسے یہودیوں کی سازش قرار دے دیا جاتا ہے’۔
سید مصطفیٰ کمال نے زچگی کے دوران اموات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان میں ہر 10 ہزار حمل کے کیسز میں 400 مائیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، جبکہ دنیا میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے’۔ انہوں نے بتایا کہ ‘ہر سال ملک میں تقریباً 10 ہزار خواتین حمل یا زچگی کے دوران انتقال کر جاتی ہیں، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے’۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ‘ہم ابھی تک صرف بیمار افراد کا علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر اس بات پر توجہ نہیں دی جا رہی کہ لوگ بیمار ہی نہ ہوں’۔ ان کے مطابق حقیقی صحت کا تصور بیماریوں سے بچاؤ، آگاہی اور احتیاطی تدابیر سے جڑا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب اسمبلی: اسموگ اور موسمی بیماریوں کے تدارک سے متعلق قرارداد منظور
انہوں نے کہا: ‘صحت کا شعبہ محض نوکری نہیں بلکہ ایک خدمت اور مشن ہے، مریض سے اچھا برتاؤ، نرمی اور احترام کسی خرچ کے بغیر صحت یابی پر گہرا اثر ڈالتا ہے’۔
سید مصطفیٰ کمال نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان میں تقریباً 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صاف پینے کے پانی کی فراہمی، عوامی شعور اور اجتماعی کوششوں کے بغیر بیماریوں کی روک تھام ممکن نہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم ‘عوامی تعاون کے بغیر صحت مند پاکستان کا خواب پورا نہیں ہو سکتا’۔ انہوں نے صحت کو ایک عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر انسان نہ اپنی ذمہ داریاں نبھا سکتا ہے اور نہ ہی زندگی مؤثر انداز میں گزار سکتا ہے۔














