بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ رو رہے تھے

پیر 2 فروری 2026
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ دہشتگردوں نے اپنے ناپاک ارادوں کے ساتھ اس ارضِ پاک پر حملہ کیا ہو۔ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ ان خوارجین نے بلوچستان میں نہتے عوام پر حملہ کیا ہو۔ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ دہشتگرد افغانستان سے تربیت لے کر آئے ہوں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ان دہشتگردوں کے پیچھے بھارتی معاونت کے واضح ثبوت ہوں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے جان کے نذرانے پیش کر کے اس ارضِ مقدس کی حفاظت کی ہو۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ہم نے شہدا کے جنازے اٹھائے ہوں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ریاست نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہو۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ یوں لگا ہو کہ اب دہشتگرد قصۂ پارینہ ہو چکے ہیں، اب سرحد پار سے نفرت کے سلسلے بند ہو گئے ہیں اور اب ظلم اور قہر کی رات بیت گئی ہے۔

عجب بدقسمتی ہے کہ جب بھی اس ملک میں  امن کی بات ہونے لگتی ہے، خوشحالی دروازہ کھٹکھٹانے لگتی ہے، جب بھی ہم  خوشیاں منانے لگتے ہیں، جب بھی ہم متحد ہونے لگتے ہیں، کہیں نہ کہیں سے کوئی سازش ہمیں درپیش ہوتی ہے۔ کوئی سانحہ ہمارا منتظر ہوتا ہے۔ دہشتگردی کے کسی واقعے کا ہمیں سامنا ہوتا ہے۔

ظلم کی یہ  ریت بہت پرانی ہو گئی۔ قہر کی اس رسم کو دہائیاں گزر گئیں۔ دہشتگردی کا عفریت زندہ ہی رہا۔ 80 ہزار لوگ جان سے گزر گئے۔ کتنے جوانوں نے شہادت کا سہرا پہنا، کتنے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ کتنی عورتیں بیوہ ہوئیں۔ کتنی ماؤں نے جوانوں کے جنازوں پر ماتم کیا۔ اس دھرتی پر کتنا خون بہا، کتنی آفت آئی، یہ حساب ہم سب کو یاد ہے۔

یہ دھماکے، یہ دہشتگرد، یہ خودکش بمبار ہم سب کی یادداشت کا حصہ ہیں۔ ہم سب کے ماضی کا قصہ ہیں۔ ہم سب کا حال یہی ہے، اور اس حال سے نجات کی خواہش ہم سب کی ہے۔

بلوچستان آدھا پاکستان۔ مستقبل کی معاشی شہ رگ۔ غیور اور بہادر لوگوں کا صوبہ۔ شاندار روایات اور جری رسوم کا علاقہ۔ اس کے پہلو میں گوادر سا خزینہ،  جو مستقبل کا راستہ، آنے والے زمانوں کی گزرگاہ۔ اس کے چٹیل پہاڑوں میں وہ سونا دفن، جس کی شناخت آنے والی صدیوں میں ہونی ہے۔ جس تک دسترس ایک عالم کا خواب ہے، جو بلوچستان کی خوشحالی کا زینہ اور پاکستان کی ترقی کا سفینہ ہے۔

اس صوبے پر دشمن کی نظر پرانی ہے۔ یہاں اختلافات کو ہوا دینے والے بہت ہیں۔ یہاں نفرتیں بڑھانے والے کم نہیں۔ لوگوں کو تقسیم کرنے والے زیادہ ہیں۔ یہاں لڑائی بڑھانے والے بہت ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو ورغلانے والے کم نہیں۔

کوئی حقوق کا نام لیتا ہے۔ کوئی مسنگ پرسنز کی بات کرتا ہے۔ کسی جیب میں افغانستان کا سکہ ہے۔ کسی کی زبان پر ڈالر ہے۔ کسی کا مطمعِ نظر بھارت کی خوشنودی ہے۔ کسی کی تربیت گاہ افغانستان ہے۔ کوئی زبان کا مسئلہ بنا رہا ہے۔ کوئی فرقہ وارانہ معاملات کو ہوا دے رہا ہے۔ کوئی دہشتگردوں کا حامی بنا ہوا ہے۔ کوئی قبیلوں میں بٹا ہوا ہے۔ کسی کو سرداری نظام نے ڈس لیا۔ کسی کو غربت نے مار دیا۔ کسی کو سیاست نے ہڑپ کر لیا۔

اس دفعہ بھی یہی ہوا۔ ایک نہیں، 12 جگہوں پر حملہ کیا گیا۔ دہشتگرد زرغون روڈ اور سریاب روڈ تک پہنچ گئے۔ بینکوں کو بموں سے اڑا دیا گیا۔ ملک کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ ان کے پاس جدید اسلحہ تھا، دہشتگردی کی ٹریننگ تھی۔ ان کی آنکھوں میں نفرت، ان کے عزائم میں خباثت، اور چہروں پر لعنت تھی۔ ان کے گروہ میں دہشتگرد عورتیں بھی شامل تھیں۔ وہ نہتے مزدوروں کو قتل کرنے نکلے تھے۔ وہ بچوں اور عورتوں پر حملے کرنے نکلے تھے۔ وہ معصوم شہریوں کی لاشوں پر جشن منانے نکلے تھے۔

بھارتی چینل اسی لمحے کے منتظر تھے۔ دہشتگردی یہاں ہو رہی تھی اور جشن بھارتی چینلز پر منایا جا رہا تھا ۔ وہ جھوٹ کا بازار گرم کرنے لگے۔ فیک نیوز کو بڑھاوا دینے لگے۔ ظالموں کے قصیدے گانے لگے۔ دہشتگردوں کو ہمدرد بتانے لگے۔ ان کی محبت میں گیت گانے لگے۔

دہشتگردوں کا ارادہ تھا کہ ہر جگہ پر قبضہ کر لیں۔ لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیں۔ سوئے ہوؤں کو ابدی نیند سلا دیں۔ دنیا کو پاکستان کی ابتری کی شکل دکھا دیں۔ خون ریزی کی یہ داستان بھارتی چینلوں پر دکھلا دیں۔ پاکستان کی ناموس کو مٹی میں ملا دیں۔

لیکن دشمن کے ارادے پھر ناکام ہوئے۔ وطن کے محافظ ان کے منتظر تھے۔ جتنی تیز رفتاری سے یہ دہشتگرد بلوچستان میں پھیلے، اتنی ہی سرعت سے انہیں جہنم واصل کیا گیا۔ ان کے پرخچے اڑا دیے گئے۔ ان کے ناپاک جسموں کے ڈھیر لگا دیے گئے۔ جری جوانوں نے دشمن کا حملہ ناکام بنایا۔ ان کی نسلوں کو سبق سکھایا۔ شجیع محافظوں نے ان کو عبرت کا نشان بنایا۔

سرحدوں کی حفاظت کرنے والے دلیروں کے حوصلے کو داد دینا قوموں کا فرض ہوتا ہے۔ یہ اس ملک کے عوام پر قرض ہوتا ہے۔ شام پڑتے ہی کلین اپ آپریشن تمام ہوا۔ دشمن اپنے ارادوں کے ساتھ خاک ہوا۔ ان کی باقیات نشانِ عبرت بننے لگیں۔ دنیا کو درست خبر ملنے لگی کہ دہشتگرد ناکام ہوئے، وطن کا دفاع کرنے والے سرفراز ہوئے۔ دشمن کی ناپاک سازش ناکام ہوئی۔ ارضِ پاکستان کے محافظ سرخرو ہوئے۔

وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی جوانوں کا حوصلہ بڑھانے  نکلے۔ ان کی شجاعت کی داد دینے ان کے پاس گئے۔ ان کو بتانے  گئے کہ ہم تمہارے قرض دار ہیں۔ ہم تمہارے حوصلوں کے احسان مند ہیں۔ ہم تمہاری شجاعت کے گواہ ہیں اور تمہارے قدموں کی خاک ہیں۔ یہ کہتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی آبدیدہ ہو گئے۔ آنسو ان کی آنکھوں سے ٹپکنے لگے۔ یہ دکھ کے آنسو نہیں تھے۔ یہ فخر اور انبساط کے آنسو تھے۔ یہ حوصلے اور ہمت کی داد کے آنسو تھے۔ یہ مناظر دیکھ کر یوں لگا جیسے صرف وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے بلکہ پوری قوم کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو۔ یہ آنسو ان جوانوں کی دلیری کا خراج۔ یہ آنسو ان بہادروں کی عظمت کے گواہ۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور: بسنت کے دوران ایئرپورٹ کے اطراف پتنگ بازی پر پابندی

لاہور میں بسنت فیسٹیول کے لیے جامع حفاظتی اقدامات

اسلامی فوجی انسداد دہشتگردی اتحاد کے سیکریٹری جنرل کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات

لیبیا کی مسلح افواج کے نائب کمانڈر کی فضائیہ سربراہ سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال

کراچی میں ریلی نکالنے پر امیر جماعت اسلامی منعم ظفر سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج

ویڈیو

سہیل آفریدی کس پی ٹی آئی رہنما کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں؟

وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پہلی اہم ملاقات، کیا کچھ زیر بحث آیا؟

محمود خان اچکزئی کا عمران خان کی صحت پر دوٹوک مؤقف، پی ٹی آئی کے بیانیے پر سوالات

کالم / تجزیہ

دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

وفاق اور گل پلازہ

’لڑکی لیزنگ پر لے لو‘