ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 15 فروری کو کھیلے جانے والے میچ کے بائیکاٹ کے پاکستانی فیصلے نے نہ صرف کرکٹ حلقوں بلکہ عالمی براڈکاسٹنگ، آئی سی سی اور رکن بورڈز میں بھی شدید تشویش پیدا کردی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں 50 ملین ڈالر سے زائد کے ممکنہ مالی نقصان، قانونی کارروائیوں اور آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کے خلاف پابندیوں جیسے خدشات پر بحث شدت اختیار کرگئی ہے، جبکہ ماضی میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جب ٹیموں نے حکومتی یا سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں سینیئر اسپورٹس جرنلسٹ ماجد بھٹی کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی مختلف حکومتوں نے اپنی ٹیموں کو مخصوص ممالک میں کھیلنے سے روکا ہے اور ایسی کئی مثالیں عالمی کرکٹ میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1996 کے ورلڈ کپ میں جب پاکستان، بھارت اور سری لنکا مشترکہ میزبان تھے تو سری لنکن ٹیم پاکستان نہیں آئی تھی اور اپنے پوائنٹس فورفٹ کیے تھے۔ اسی طرح 2003 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کے معاملے پر وہاں کھیلنے سے انکار کیا، جبکہ اسی ایونٹ میں ممباسا میں بم دھماکے کے بعد نیوزی لینڈ نے کینیا جانے سے انکار کردیا تھا۔
ماجد بھٹی کے مطابق 2009 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں برطانوی حکومت نے زمبابوے کی ٹیم کو ویزے جاری ہی نہیں کیے تھے، جس کے باعث زمبابوے کو ٹورنامنٹ سے ریلیز کیا گیا اور نیدرلینڈز کو شامل کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ ٹیموں کا میچ نہ کھیلنا کوئی نئی بات نہیں، مگر موجودہ صورتحال میں معاملہ غیر معمولی حد تک حساس ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس فیصلے کے بعد نقصان کس کا ہوگا؟ پاکستان اور بھارت کے مابین کھیلا جانے والا میچ دنیا کا سب سے بڑا اسپورٹنگ ایونٹ تصور کیا جاتا ہے، جس میں تقریباً 50 ملین ڈالر کی براڈکاسٹنگ ویلیو شامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گراؤنڈ کی ہوڈنگز، ٹکٹوں کی فروخت، ہوٹل بکنگ اور فلائٹس کی ایڈوانس بکنگ الگ سے بڑا مالی بوجھ بن چکی ہیں۔
ماجد بھٹی کے مطابق آئی سی سی اپنے میڈیا رائٹس پہلے ہی عالمی براڈکاسٹرز کو فروخت کرچکی ہے، جن میں بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے چینلز بھی شامل ہیں۔ اگر پاکستان ٹیم میچ نہیں کھیلتی تو براڈکاسٹرز آئی سی سی کے خلاف عدالت جاسکتے ہیں اور اس کے بعد آئی سی سی پاکستان کے خلاف قانونی کارروائی، جرمانے یا پابندیاں عائد کرسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ٹورنامنٹ سے قبل آئی سی سی اور رکن بورڈز کے درمیان پارٹیسپیشن ایگریمنٹ ہوتا ہے، اور میچ نہ کھیلنا اس معاہدے کی خلاف ورزی شمار ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی آمدن دراصل رکن بورڈز میں تقسیم ہوتی ہے، جس میں پاکستان کو سالانہ تقریباً 35 ملین ڈالر کا حصہ ملتا ہے، جبکہ بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسے بڑے بورڈز کا شیئر کہیں زیادہ ہے۔ ایسے میں کسی ایک بڑے میچ کا نہ ہونا تمام بورڈز کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
ماجد بھٹی نے سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کا مؤقف قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ حالیہ عرصے میں دہشتگردی کے واقعات اور بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں کے تناظر میں حکومت کے پاس خدشات موجود ہیں اور ریاستی سطح پر ایسے فیصلے محض کھیل کی بنیاد پر نہیں کیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان بعد میں اپنا فیصلہ واپس لیتا ہے تو مالی نقصان شاید کم ہوجائے، مگر قومی وقار اور پیغام کے حوالے سے یہ فیصلہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کے معاملے میں آئی سی سی کا رویہ ہمیشہ نرم رہا ہے، جبکہ اگر یہی اقدامات کسی اور ملک کی جانب سے ہوتے تو ردعمل مختلف ہوتا۔
گفتگو کے اختتام پر ماجد بھٹی نے پاکستان ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف ٹی20 سیریز میں کلین سویپ غیر معمولی کامیابی ہے اور موجودہ ٹیم متوازن اور خطرناک دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹیم بڑی ٹیموں کے لیے سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے اور اگر کرکٹ سے باہر فیصلے دانشمندی سے کیے گئے تو پاکستان کرکٹ آگے بڑھ سکتی ہے۔













