فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی نئی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا میں شرح خواندگی کے حوالے سے بدستور سب سے نچلے درجے پر موجود ہے، جہاں 10 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی میں صرف 63 فیصد افراد پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈز میژرمنٹ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (PSLM–HEIS) 2024-25 کے سرکاری اعداد و شمار کو بنیاد بنایا گیا ہے اور خطے کے دیگر ممالک کا تقابلی جائزہ عالمی بینک کے ڈیٹا کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عالمی یومِ خواندگی: صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغامات میں کیا کہا؟
فافن کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 2018-19 میں 60 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی، تاہم تقریباً 6 سال میں صرف 3 فیصد اضافہ ماہرین کے مطابق 24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کے لیے انتہائی سست رفتار ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں مالدیپ 98 فیصد سے زائد شرح خواندگی کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد سری لنکا 93 فیصد، بھارت 87 فیصد اور بنگلہ دیش 79 فیصد پر ہیں۔ نیپال میں شرح خواندگی 68 فیصد جبکہ بھوٹان میں 65 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ جنوبی ایشیا کی اوسط شرح خواندگی 78 فیصد ہے جو پاکستان سے 15 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے اندر نمایاں عدم مساوات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ مردوں میں شرح خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں صرف 54 فیصد ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے، سندھ اور خیبرپختونخوا دونوں میں شرح خواندگی 58 فیصد ہے جبکہ بلوچستان میں یہ سب سے کم 49 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کی شرح خواندگی 5.5 فیصد سے بڑھ کر 54.5 فیصد کیسے ہوئی؟
فافن کے مطابق 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں شرح خواندگی 77 فیصد ہے، تاہم 15 سال اور اس سے زائد عمر کی مجموعی بالغ آبادی میں شرح خواندگی 60 فیصد ہے، جو بڑی عمر کے افراد میں تعلیم اور مہارتوں کے تسلسل سے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سروے کے مطابق خواندہ فرد وہ تصور کیا گیا ہے جو 10 سال یا اس سے زائد عمر کا ہو، سادہ جملہ پڑھ اور سمجھ سکتا ہو اور ایک سادہ جملہ لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
فافن نے یاد دلایا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت 5 سے 16 سال کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ بن چکی ہے، جبکہ پاکستان اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت تعلیمی اہداف حاصل کرنے کا بھی پابند ہے۔














