شرح خواندگی میں پاکستان جنوبی ایشیا میں بدستور آخری نمبر پر، رپورٹ میں انکشاف

پیر 2 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی نئی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا میں شرح خواندگی کے حوالے سے بدستور سب سے نچلے درجے پر موجود ہے، جہاں 10 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی میں صرف 63 فیصد افراد پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈز میژرمنٹ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (PSLM–HEIS) 2024-25 کے سرکاری اعداد و شمار کو بنیاد بنایا گیا ہے اور خطے کے دیگر ممالک کا تقابلی جائزہ عالمی بینک کے ڈیٹا کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: عالمی یومِ خواندگی: صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغامات میں کیا کہا؟

فافن کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 2018-19 میں 60 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی، تاہم تقریباً 6 سال میں صرف 3 فیصد اضافہ ماہرین کے مطابق 24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کے لیے انتہائی سست رفتار ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں مالدیپ 98 فیصد سے زائد شرح خواندگی کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد سری لنکا 93 فیصد، بھارت 87 فیصد اور بنگلہ دیش 79 فیصد پر ہیں۔ نیپال میں شرح خواندگی 68 فیصد جبکہ بھوٹان میں 65 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ جنوبی ایشیا کی اوسط شرح خواندگی 78 فیصد ہے جو پاکستان سے 15 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کے اندر نمایاں عدم مساوات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ مردوں میں شرح خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں صرف 54 فیصد ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے، سندھ اور خیبرپختونخوا دونوں میں شرح خواندگی 58 فیصد ہے جبکہ بلوچستان میں یہ سب سے کم 49 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کی شرح خواندگی 5.5 فیصد سے بڑھ کر 54.5 فیصد کیسے ہوئی؟

فافن کے مطابق 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں شرح خواندگی 77 فیصد ہے، تاہم 15 سال اور اس سے زائد عمر کی مجموعی بالغ آبادی میں شرح خواندگی 60 فیصد ہے، جو بڑی عمر کے افراد میں تعلیم اور مہارتوں کے تسلسل سے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سروے کے مطابق خواندہ فرد وہ تصور کیا گیا ہے جو 10 سال یا اس سے زائد عمر کا ہو، سادہ جملہ پڑھ اور سمجھ سکتا ہو اور ایک سادہ جملہ لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

فافن نے یاد دلایا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت 5 سے 16 سال کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ بن چکی ہے، جبکہ پاکستان اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت تعلیمی اہداف حاصل کرنے کا بھی پابند ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں اسٹروک مینجمنٹ پروگرام، فالج کے مریضوں کے لیے نئی زندگی کی نوید

سرمد کھوسٹ کی فلم ’لالی‘ ، پاکستان کی پہلی مکمل فیچر فلم نے عالمی سینما میں دھوم مچا دی

بنگلہ دیش نے بھارتی اسپائس جیٹ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا

ایپسٹین کے مشیروں کیخلاف مقدمہ تصفیے پر منتج، ساڑھے 3 کروڑ ڈالر کی ادائیگی پر آمادگی

مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتیں مسلسل احساسِ محرومی اور امتیازی سلوک کا شکار

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب