انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے تھانہ صادق آباد میں 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے میں علیمہ خان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے اور مؤکلہ کی جانب سے حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی۔
راولپنڈ کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے علیمہ خان کے خلاف تھانہ صادق آباد میں 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ pic.twitter.com/ySYfhEJo5T
— Tayyab Khan (@TayyabKhanARY) February 2, 2026
مزید پڑھیں: علیمہ خان کے خلاف کون سے مقدمات زیر سماعت ہیں، کیا ان کی گرفتاری کا امکان ہے؟
وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ جب تک علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹس اور شناختی کارڈ بحال نہیں کیے جاتے، وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتیں۔
اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ عدالت کو احکامات نہیں دے سکتی اور نہ ہی عدالتی کارروائی کو یرغمال بنایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت پہلے ہی مقدمے کی روزانہ بنیاد پر سماعت کے احکامات دے چکی ہے، جبکہ ملزمہ ابتدا سے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ملزمہ عدالت میں پیش ہی نہیں ہو رہی تو شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے علیمہ خان کی حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے ایس پی راولپنڈی کو ہدایت کی کہ علیمہ خان کو گرفتار کر کے کل تک عدالت میں پیش کیا جائے۔
عدالتی حکم کے مطابق ملزمہ کی عدالت میں پیشی تک ان کے بینک اکاؤنٹس اور شناختی کارڈ بدستور بلاک رہیں گے۔
عدالت نے علیمہ خان کے ضامن کو بھی نوٹس جاری کر دیے جبکہ مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔
مزید پڑھیں: 8 فروری کو احتجاج کی کال عمران خان کی طرف سے نہیں، علیمہ خان نے واضح کردیا
سماعت کے موقع پر استغاثہ کے گواہان عدالت میں موجود تھے۔ کیس کی کارروائی انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ مقدمے میں اب تک مجموعی طور پر 10 گواہان پر جرح مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ آج مزید گواہوں کو جرح کے لیے طلب کیا گیا تھا۔














