بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت، دہشتگردوں کو بھرپور طاقت سے جواب دیا جائےگا، خواجہ آصف

پیر 2 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مخصوص جغرافیائی حالات کی وجہ سے اس علاقے میں بڑی تعداد میں فوجی اہلکاروں کی تعیناتی لازمی ہے، دہشتگردوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں گے بلکہ بھرپور قوت سے جواب دیا جائےگا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں چمن بارڈر پر ایک بڑا احتجاج بھی ہوا۔ احتجاج کرنے والوں نے مطالبہ کیاکہ نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال، دہشتگردی کے پیچھے کون؟

خواجہ آصف نے واضح کیاکہ یہ لوگ نہ تو حقیقی سیاسی ہیں اور نہ قوم پرست، بلکہ بنیادی طور پر ان کی تحریک کاروباری نقصان کے ازالے اور روزانہ کی بنیاد پر تیل کی اسمگلنگ سے اربوں روپے کمانے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہاکہ بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ عناصر ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کررہے ہیں اور بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریکوں کے پیچھے ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان میں 177 دہشتگرد مارے گئے جبکہ 17 سیکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری شہید ہوئے۔

وزیر دفاع نے ایوان کو یقین دلاتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں دہشتگردوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی اور ریاست پوری قوت کے ساتھ عورتوں، بچوں اور سیکیورٹی فورسز کو شہید کرنے والوں کو جواب دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاستدانوں کو دہشتگردوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا، ہم آپس کی سیاسی لڑائیاں رکھ سکتے ہیں مگر دہشتگردی کے خلاف سب کو ایک ہونا پڑے گا۔

انہوں نے ایوان کے ماحول پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اتنے سنجیدہ معاملے کے دوران ارکان کا گپیں مارنا ایوان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے بلیک میلنگ کی جاتی رہی اور سرداری نظام نے صوبے کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔

وزیر دفاع نے کہاکہ کچھ عرصہ قبل انہوں نے لاپتا افراد کے اعداد و شمار حاصل کیے تھے جو 700 سے 750 کے درمیان تھے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک بہت بڑا علاقہ ہے جسے کنٹرول کرنا انتہائی مشکل ہے، وہاں لڑنے والوں کے پاس ایسا جدید اسلحہ موجود ہے جو بعض اوقات سیکیورٹی فورسز کے پاس بھی نہیں، سوال یہ ہے کہ اتنا جدید اسلحہ آ کہاں سے رہا ہے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ آج بلوچستان میں 15 ہزار 96 اسکولز، 13 کیڈٹ کالجز اور 13 بڑے اسپتال موجود ہیں، اس کے باوجود احساسِ محرومی کا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ بلوچستان کا این ایف سی شیئر 933 ارب روپے ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ نکال لی جائےگی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز

خواجہ آصف نے مزید کہاکہ ارکان کو اپنے حلقوں میں جا کر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کتنی کرپشن ہو رہی ہے، کیونکہ جب ملکی سیاسی قیادت کرپشن پر نظر نہیں رکھے گی تو حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن ایک دیمک ہے جو بلوچستان سمیت تمام صوبوں اور مرکز کو کھا رہی ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

راجن پور اور کچے کے علاقے سے ڈاکوؤں کا صفایا، 500 سے زائد مجرموں نے ہتھیار ڈال دیے، مریم نواز

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا

پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟