بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ کسی کا باپ بھی بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کر سکتا۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے کوئی حقوق کی جنگ نہیں لڑ رہے، یہ صرف اور صرف فنڈنگ کی جنگ ہے، ان لوگوں کا بلوچستان کے عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ کوئی حقوق کی جنگ نہیں لڑ رہے یہ صرف اور صرف فنڈنگ کی جنگ ہے یہ لوگ اپنے ہی لوگوں کو استعمال کررہے ہیں ان کا بلوچستان کے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ، انڈیا کو یہی پیغام ہے کہ بلوچستان کسی کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بننے والا بلوچستان پاکستانی عوام کا ہے کسی کاباپ بھی اسے پاکستان سے… pic.twitter.com/QEwJZ8Z0K3
— WE News (@WENewsPk) February 2, 2026
جمال رئیسانی نے کہاکہ انڈیا کو یہی پیغام ہے کہ بلوچستان کسی کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بننے والا، بلوچستان پاکستانی عوام کا ہے، کسی کا باپ بھی اسے پاکستان سے الگ نہیں کرسکتا۔
واضح رہے بلوچستان میں ہونے والی حالیہ دہشتگردی میں سیکیورٹی فورسز نے 177 دہشتگردوں کو ہلاک کیا ہے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 17 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں۔
دہشتگردی کی اس کارروائی کے بعد ملک بھر میں غم و غصے پایا جاتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے آج قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دشمن اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں چمن بارڈر پر ایک بڑا احتجاج بھی ہوا۔ احتجاج کرنے والوں نے مطالبہ کیاکہ نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کے جغرافیائی حالات کی وجہ سے وہاں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
وزیر دفاع نے مزید کہاکہ بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ عناصر ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کررہے ہیں اور بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریکوں کے پیچھے ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔













