غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں یومِ یکجہتی کشمیر سے قبل مختلف علاقوں میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز سامنے آئے ہیں، جن میں کشمیری عوام کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یہ پوسٹرز حریت پسند تنظیموں کی جانب سے آویزاں کیے گئے ہیں۔
پوسٹرز میں بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ، آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی تصاویر شامل ہیں۔
پوسٹرز پر درج پیغامات
پوسٹرز پر درج نمایاں پیغامات میں
’ Thank You Pakistan‘،
’ A Bond of Blood and Belief ‘
اور
’ Pakistan supports Kashmir’s right to decide — Let the people choose ‘
جیسے جملے شامل ہیں، جو کشمیری عوام کے پاکستان کے ساتھ نظریاتی اور تاریخی تعلق کو اجاگر کرتے ہیں۔
پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بھارتی قبضے کے خلاف اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے۔ پوسٹرز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر دو قومی نظریے کے مطابق پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت نے اکتوبر 1947 میں اس کے ایک حصے پر غیر قانونی قبضہ کیا۔
پاکستان کا عالمی سطح پر کردار قابلِ ستائش
پوسٹرز میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلسل عالمی سطح پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کا مقدمہ اجاگر کر رہا ہے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کر رہا ہے، جس پر کشمیری عوام پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
یومِ یکجہتی کشمیر: مقصد اور پس منظر
یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو منایا جاتا ہے، جس کا مقصد بھارتی ریاستی دہشتگردی کا سامنا کرنے والے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔ یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990 کو منایا گیا، جب پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے متفقہ طور پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا تھا۔
پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے واضح کیا ہے کہ وہ بھارتی تسلط کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور آزادی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انہیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔














