بسنت کے موقع پر لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں سیکیورٹی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
کمشنر لاہور مریم خان کے مطابق 6، 7 اور 8 فروری کو ہونے والے بسنت کے تہوار کے لیے ڈرون کیمروں کے ذریعے چھتوں کی انسپیکشن جاری ہے، جبکہ ہر اس چھت کا رجسٹرڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے جہاں پتنگ بازی کی میزبانی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: بسنت کی آمد پر ٹریفک پولیس کی تیاریاں، 7 لاکھ موٹرسائیکلوں پر سیفٹی راڈز نصب
کمشنر لاہور نے واضح کیا کہ کوئیک ریسپانس ٹیمیں ہر میزبان مقام اور روف ٹاپ پر این او سی کی جانچ کریں گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
انتظامیہ کے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق صرف وہی چھتیں پتنگ بازی کے لیے رجسٹرڈ ہو سکیں گی جو طے شدہ ضوابط پر پورا اتریں گی۔
Safe Basant 2026! #SafeBasant #LahoreAdministration #CulturalRevival #DigitalGovernance #PublicSafety #Basant2026 #GoodGovernance@MaryamNSharif @cmopunjabpk @Marriyum_A @AzmaBokhariPMLN @CS_Punjab @GovtofPunjabPK @commissionerlhr pic.twitter.com/v1p3trCiHm
— Deputy Commissioner Lahore (@DCLahore) January 29, 2026
انہوں نے کہا کہ ایس او پیز کے تحت مخصوص تعداد سے زائد افراد کے اکٹھ کے لیے این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
’شہریوں کی جان و مال کا تحفظ انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کا خیال رکھیں۔‘
مزید پڑھیں: 8 فروری: نوجوان بسنت منائیں گے یا ہڑتال کریں گے؟
کمشنر مریم خان کے مطابق بسنت کے ضابطہ اخلاق اور قوانین سے متعلق تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم بھی جاری ہے تاکہ نوجوان نسل میں ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ریڈ زون سمیت لاہور کے تمام علاقوں میں سیل پوائنٹس کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے اور ان کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اب تک 2 ہزار 276 سے زائد سیلرز کو این او سی جاری کیے جا چکے ہیں۔
کمشنر لاہور کا کہنا تھا کہ باشعور اور ذمہ دار شہری، مؤثر انتظامی کاوشوں کے ساتھ مل کر بسنت جیسے خوبصورت تہوار کے محفوظ اور مثبت احیا کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔














