۔
برطانیہ میں بڑھتی ہوئی دائیں بازو کی نفرت کیخلاف یکجہتی کا پیغام دینے کے لیے مساجد میں کیک تقسیم کرنیوالے ایک آٹسٹک اور بے زبان برطانوی بچے محبت اور امن کا یہی پیغام اب مدینہ منورہ تک پہنچا دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ’دی جوشی مین‘ کے نام سے مشہور 12 سالہ جوشوا ہیرس گزشتہ چند ماہ کے دوران برطانیہ کے بڑے شہروں کی متعدد مساجد میں نمازیوں میں اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ کیک تقسیم کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قرآن کی بےحرمتی: انسانی حقوق کونسل میں امریکا، برطانیہ و دیگر کی پاکستان کی قرارداد کی مخالفت
ان کی یہ مہم ’کیک، ناٹ ہیٹ‘ یعنی نفرت نہیں، کیک اکتوبر 2025 میں ان کے آبائی شہر پیٹربرا میں ایک مسجد پر اسلاموفوبک حملے کے بعد شروع ہوئی۔
حملے کے فوراً بعد جوشوا اپنے والد کے ہمراہ حملے کا نشانہ بننی والی مسجد دارالسلام پہنچے اور وہاں نمازیوں میں کیک تقسیم کیے، اس کے بعد سے جوشوا برطانیہ بھر میں درجنوں مساجد کا دورہ کر چکے ہیں۔
@thejoshieman2013 Medina didn’t just welcome us. It held us. We came with Cakes Not Hate. In Medina, dates are the language of respect. So we adapted. Dates Not Cake. Then something happened we will never forget. We were invited into Al Masjid an Nabawi, the Prophet’s Mosque. The final resting place of the Prophet Muhammad, peace be upon him. The second holiest site in Islam. A lifetime honour. We carried hundreds of well wishes from around the world. Love. Hope. Peace. Unity. To stand in that beauty. To share those words. To offer dates, hand to hand, smile to smile. Saudi hospitality was unparalleled. We felt a deep sense of welcome and belonging. Can you believe #TheJoshieMan ♬ original sound – The Joshie-Man
حالیہ دنوں مشرقِ وسطیٰ کے سفر کے دوران جوشوا اور ان کے والد مدینہ منورہ بھی گئے، جہاں انہوں نے مسجدِ نبوی ﷺ کے صحن میں لوگوں میں کھجوریں تقسیم کیں۔
اس موقع پر عجوہ اور عنبر سمیت مدینہ کی مشہور کھجوروں کو مہم کا حصہ بنایا گیا اور یوں’کیک ناٹ ہیٹ‘ مہم سعودی عرب میں اپنا روپ بدل کر ’ڈیٹس ناٹ ہیٹ‘ یعنی نفرت نہیں، کھجوریں میں تبدیل ہوگئی۔
مزید پڑھیں: پوپ لیو کی یورپ میں پھیلتے اسلاموفوبیا پر کڑی تنقید، لبنان میں امن کی اپیل
جوشوا کے والد ڈین ہیرس کے مطابق، مدینہ میں ان کا استقبال غیر معمولی طور پر محبت سے بھرپور تھا۔
’لوگوں نے اسے بے حد گرمجوشی سے خوش آمدید کہا، کئی جذباتی لمحات ایسے تھے جب لوگ اس کے ہاتھ اور سر چوم رہے تھے، یہ سب بہت دل کو چھو لینے والا تھا۔‘
عالمی فلاحی ادارے ‘نیورو ڈائیورسٹی اِن بزنس’ کے بانی ڈین ہیرس کا کہنا تھا کہ مدینہ میں قیام نے انہیں اسلام کی حقیقی تنوع سے روشناس کرایا۔

’ہم نے دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگوں سے ملاقات کی، یہ کسی حد تک اقوامِ متحدہ جیسا منظر تھا، جہاں مختلف ممالک کے افراد موجود تھے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلم امہ ایک یکساں گروہ نہیں بلکہ ثقافتی تنوع سے بھرپور ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ملاقات تاجکستان اور ازبکستان سے آنے والے افراد سے بھی ہوئی، جو ان کے لیے ایک دلچسپ تجربہ تھا۔
ڈین ہیرس کے مطابق، مسلمانوں کے لیے مکہ مکرمہ کے بعد دوسری مقدس ترین شہر مدینہ منورہ کا یہ سفر ان کی زندگی کا ایک گہرا اور فیصلہ کن تجربہ ثابت ہوا۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کے صدر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، اسلاموفوبیا کیخلاف پاکستان کے کردار کی تعریف
’یہ دنیا بھر میں میرا پسندیدہ شہر بن گیا ہے، یہاں جو سکون اور طمانیت میں نے یہاں محسوس کی وہ ناقابلِ بیان ہے۔‘
انہوں نے سعودی مہمان نوازی کی بھی دل کھول کر تعریف کی۔
’جہاں بھی گئے، لوگ اصرار کرتے رہے کہ ہمارے ساتھ کھانا کھائیں، ہمیں خود لے کر جائیں، اور خاص طور پر جوشی کی ضروریات کا بھرپور خیال رکھا گیا۔ ہمیں ہر جگہ اپنائیت اور خیر مقدم کا احساس ملا، جو سعودی عرب کی پہچان ہے۔‘












