مہنگی گاڑیوں، کامیابی اور شان و شوکت کی دنیا میں پہچانے جانے والے بنگلورو کے معروف صنعتکار اور کنفیڈنٹ گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر سی جے رائے اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ بظاہر ایک مکمل اور کامیاب زندگی گزارنے والے سی جے رائے کی اچانک موت نے سب کو حیرت اور افسوس میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دنیا کا پہلا امیر ترین ہندوستانی مسلمان کون؟
بنگلورو کے معروف ریئل اسٹیٹ ٹائیکون اور کنفیڈنٹ گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر سی جے رائے جمعے کے روز اپنے دفتر میں انتقال کر گئے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد خودکشی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان کی عمر 52 برس تھی۔
Who was Dr CJ Roy? Rise and tragic fall of Dubai-based Indian expat businessman who died by suicide
HP employee-turned-Confident Group chairman, Kerala tycoon was “happy to die anytime”https://t.co/vGZchpCngJ
— Gulf News (@gulf_news) January 30, 2026
ڈاکٹر سی جے رائے اپنی شاہانہ طرزِ زندگی اور خاص طور پر لگژری گاڑیوں کے شوق کی وجہ سے پورے ملک میں جانے جاتے تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ انہوں نے اپنی پہلی گاڑی 25 سال کی عمر میں خریدی۔ 2005 میں خریدی گئی سفید اسٹریچ لیموزین ان کی زندگی کی پہلی بڑی علامت سمجھی جاتی تھی، جسے وہ آج بھی اپنے پاس ہونے کا ذکر کرتے تھے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ان کے گیراج میں دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں شامل ہوتی چلی گئیں۔ ان کے پاس 12 رولز رائس گاڑیاں، لیمبورگینی، بینٹلی اور ایک بگاٹی ویرون بھی موجود تھی، جو دنیا کی تیز ترین اسٹریٹ لیگل کاروں میں شمار ہوتی ہے۔ نومبر 2025 میں انہوں نے تقریباً 12 کروڑ روپے مالیت کی رولز رائس فینٹم VIII خریدی، جو ان کی بارہویں رولز رائس تھی۔
یہ بھی پڑھیں:دنیا کی سب سے مہنگی مچھلی کا ریکارڈ، جاپان میں بلیو فِن ٹونا 92 کروڑ روپے میں فروخت
سی جے رائے سوشل میڈیا پر بھی اپنی کار کلیکشن کی جھلکیاں شیئر کرتے رہتے تھے۔ کبھی دبئی میں گاڑیوں کی نمائش، تو کبھی بنگلورو کی سڑکوں پر بگاٹی ویرون کے ساتھ ویڈیوز، ان کی پہچان بن چکی تھیں۔ ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’پیسہ سب کچھ خرید سکتا ہے، مگر سادگی نہیں‘۔
Confident Group Founder and Chairman, Dr Roy C. J. #cjroy #RestInPeace pic.twitter.com/2377tfBEcz
— Pallaꪜ𝔦 (@Pallavi_M9) January 30, 2026
ان کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ان کا انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ قانونی تنازع چل رہا تھا۔ دسمبر 2025 میں انہوں نے کرناٹک ہائیکورٹ میں اپنے دفاتر پر ہونے والے چھاپوں کو چیلنج کیا تھا، تاہم درخواست 2 دن بعد واپس لے لی گئی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سی جے رائے کی اچانک موت نے ایک بار پھر یہ سوال چھوڑ دیا ہے کہ بظاہر کامیابی اور دولت کے باوجود انسان کے اندر کا دکھ کس قدر گہرا ہو سکتا ہے۔













