خلیجِ عمان میں امریکی بحری بیڑے کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور تہران پر مسلسل دباؤ نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بظاہر سفارتکاری کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا، مگر زمینی حقائق، سخت بیانات اور فوجی نقل و حرکت اس خدشے کو تقویت دے رہی ہے کہ معمولی غلط اندازہ بھی ایک بڑی علاقائی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ ممکن ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات کہاں تک جائیں گے۔
#BREAKING 🔥#IranIsraelConflict
🇺🇸🇶🇦#LiveUpdates#Doha Qatar #JUSTIN🔥Iran has fired missiles at US bases in Qatar.
🔥Major case of GPS jamming in Qatar and other Gulf States.
🔥Video shows air defenses intercepting incoming Iranian missiles over Qatar.Iran is officially… pic.twitter.com/xPeq5615Yi
— Frankie™️🦅 (@B7frankH) June 23, 2025
امریکا کی جانب سے خلیجِ عمان میں جنگی جہازوں اور فوجی دستوں کی تعیناتی محض علامتی اقدام نہیں۔ یہ تہران کو واضح پیغام ہے کہ واشنگٹن بات چیت اپنی شرائط پر چاہتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا ایران سے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل نظام اور خطے میں اتحادی ملیشیاؤں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ مطالبات ایران کی نظر میں اس کی قومی سلامتی اور خودمختاری سے جڑے ہوئے ہیں۔
ایران کی حکمتِ عملی، وقت خریدنا یا مزاحمت؟
ایرانی قیادت بظاہر مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہی، مگر ماہرین کے مطابق تہران کی اصل حکمتِ عملی وقت حاصل کرنا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ امریکی دباؤ کو وقتی طور پر برداشت کیا جائے اور سیاسی حالات میں تبدیلی کا انتظار کیا جائے۔ ایران جانتا ہے کہ فوری اور بڑی رعایتیں اس کے اندرونی سیاسی توازن کو ہلا سکتی ہیں، اس لیے وہ کھلی جنگ سے بچتے ہوئے سفارتی ابہام کو ترجیح دے رہا ہے۔
🚨 IRAN: NO-WARNING ATTACK! 🇮🇷
The Islamic Revolutionary Guard Corps warns: if the U.S. launches an attack from the Gulf, the response will be immediate and WITHOUT ANY PRIOR WARNING. 🚀⚠️Qatar-style diplomacy is over!
Will the “powerful” Trump get the message this time? Or…… pic.twitter.com/dbcOPSyJFH— WAR (@warsurv) February 3, 2026
کیا امریکا واقعی حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے؟
امریکی پالیسی کا سب سے مبہم پہلو یہی ہے۔ کبھی سخت بیانات، کبھی مذاکرات کی پیشکش، یہ تضاد صورتحال کو مزید خطرناک بناتا ہے۔ خطے کے تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کے پاس ایران کو شدید نقصان پہنچانے کی فوجی صلاحیت ضرور ہے، مگر عراق اور افغانستان کے تجربات یہ ثابت کر چکے ہیں کہ حکومت گرانا آسان اور بعد از جنگ استحکام قائم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ ایران کا مضبوط قومی شعور اور پیچیدہ سماجی ڈھانچہ کسی بھی بیرونی مداخلت کو طویل اور مہنگا بنا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا، آیت اللہ خامنائی
ایران کے اتحادی اور پراکسیز: ایک سے زیادہ محاذوں کا خطرہ
ایران کی اصل طاقت اس کا علاقائی نیٹ ورک ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق کی ملیشیائیں اور یمن کے حوثی گروہ کسی بھی ممکنہ جنگ کو ایک محاذ تک محدود نہیں رہنے دیں گے۔ اگر براہِ راست ایران پر حملہ ہوا تو جواب خطے کے مختلف حصوں میں دیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں خلیجی ریاستوں کا تیل، گیس اور بحری راستے براہِ راست خطرے میں آ جائیں گے، چاہے وہ جنگ کا فریق بننا چاہیں یا نہیں۔

خلیجی ممالک کی تشویش: جنگ نہیں، استحکام
خلیجی ریاستیں واضح طور پر کسی بڑی جنگ کی حامی نہیں۔ ان کی معیشت کا دارومدار توانائی کی برآمدات اور علاقائی استحکام پر ہے۔ اگر آبنائے ہرمز متاثر ہوئی تو نہ صرف خطہ بلکہ عالمی معیشت بھی شدید جھٹکے کی زد میں آ سکتی ہے۔ اسی لیے خلیجی دارالحکومتوں میں سفارت کاری کو واحد قابلِ عمل راستہ سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے ’بے تاب‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
جنگ جو صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی
ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست جنگ کی صورت میں اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں تک پہنچیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹ اور بڑی طاقتوں کے درمیان نئی صف بندیاں دنیا کو ایک اور غیر یقینی دور میں داخل کر سکتی ہیں۔ روس اور چین کا ممکنہ کردار اس تصادم کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
TRUMP HAS FEARED IRAN.. The USS Abraham lincoln ship is going back, what a shame 😂😂
I told you, never joke with that country called Iran, don't put feelings and religion, Iran is so powerful, for US to engage in war with Iran, that means the end of USA power and end of Isreal pic.twitter.com/ZUPgDB73rT
— VJ JINGO (@JingoVj1) February 3, 2026
فی الحال سفارت کاری ایک کمزور مگر واحد سہارا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگیں اکثر دانستہ فیصلوں سے نہیں بلکہ غلط اندازوں سے شروع ہوتی ہیں۔ واشنگٹن اور تہران اگر ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے میں ناکام رہے تو اس کے نتائج صرف دونوں ممالک نہیں، پوری دنیا بھگتے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے دن خطے ہی نہیں، عالمی نظام کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
بشکریہ: رشیا ٹو ڈے














