پنجاب اسمبلی نے صوبہ بلوچستان میں پیش آنے والے حالیہ دہشتگرد حملے کے خلاف شدید مذمتی قرارداد منظور کر لی، جس میں حملے کو پاکستان کی سلامتی اور ریاستی وقار پر حملہ قرار دیتے ہوئے ملوث عناصر کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:فوج میں دہشتگردوں اور غیرملکی ایجنٹس کا گٹھ جوڑ توڑنے کی صلاحیت موجود ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی
پنجاب اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن کی عدم موجودگی میں منعقد ہوا، جہاں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان صوبہ بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملے کی نہایت سخت اور شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جسے ایک بزدلانہ، سفاک اور انسانیت سوز کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ متن کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ یہ واقعہ محض داخلی امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی اور ریاستی وقار پر براہِ راست حملہ ہے۔ ایوان نے الزام عائد کیا کہ بھارت طویل عرصے سے پاکستان، بالخصوص صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی میں ملوث رہا ہے، جس کے ناقابلِ تردید شواہد پاکستان متعدد بار بین الاقوامی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جس کے ہاتھ میں ڈور اور پتنگ ہے، بڑی ذمہ داری اسی کی ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی
متن میں بھارتی ریاست کی جانب سے دہشتگردی، خفیہ جنگ اور پاکستان کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ہمسائیگی کے مسلمہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان بھارت کو خطے کے امن کے لیے ایک مستقل اور خطرناک خطرہ سمجھتا ہے۔
ایوان نے واضح اعلان کیا کہ پاکستان کسی بھی بیرونی طاقت، بالخصوص بھارت کی جانب سے دہشتگردی کو بطور ریاستی پالیسی استعمال کرنے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور ایسے تمام اقدامات کا ہر سطح پر بھرپور، مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

قرارداد میں شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا جبکہ زخمیوں کی فوری اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا بھی کی گئی۔ اس کے ساتھ وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان میں اس دہشتگرد حملے میں ملوث تمام عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز، سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔
ایوان نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ بھارت کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیے جائیں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری سفارتی، قانونی اور ریاستی اقدام اٹھایا جائے۔
آخر میں قرارداد کے ذریعے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ صوبہ پنجاب، بلوچستان کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور دہشتگردی کے خلاف اس قومی جدوجہد میں کسی قسم کی کمزوری، مصلحت یا دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔














