جس کے ہاتھ میں ڈور اور پتنگ ہے، بڑی ذمہ داری اسی کی ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی

پیر 2 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ ان کا بسنت کے ساتھ ایک رومانس اور صدیوں پرانا رشتہ ہے اور یہ تہوار لاہور اور پنجاب کی تہذیبی اساس کی علامت ہے۔

بسنت کے تہوار کے موقع پر پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ بسنت کی رونق اور خوشی ان کے دل کو لبھاتی ہے۔

تاہم غیر محتاط رویوں اور خطرناک سرگرمیوں سے انہیں شدید خدشات لاحق رہتے ہیں، خصوصاً ایسی ڈوروں کے استعمال سے جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کا جوش، پتنگوں اور ڈور کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

ان کا کہنا تھا کہ اگر خدا نخواستہ کوئی شخص کسی مہلک ڈور میں پھنس کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو یہ بسنت کی خوشیوں کو گہنا دیتا ہے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے بتایا کہ حکومت بسنت کو محفوظ اور مثبت انداز میں منانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

اشتہاری مہمات اور سیاسی آگاہی کے ذریعے عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ بسنت کو محض ایک تہوار کی حیثیت سے منایا جائے اور اسے ہر قسم کی ہلاکت خیزی اور منفی اثرات سے پاک رکھا جائے۔

مزید پڑھیں:  بسنت 2026 کو محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے لاہور میں سخت حفاظتی انتظامات

ملک محمد احمد خان نے زور دیا کہ بسنت پر کوئی ایسا رنگ غالب نہیں آنا چاہیے جو انسانی جانوں یا انفرا اسٹرکچر کے نقصان کا سبب بنے.

’چاہے وہ دھاتی ڈور کا استعمال ہو یا کوئی اور خطرناک عمل۔‘

انہوں نے کہا کہ سادہ سی بات ہے کہ جس کے ہاتھ میں پتنگ اور ڈور ہے، سب سے بڑی ذمہ داری اسی کی ہے۔

اگر کسی نقصان کے بعد بسنت اپنی اصل خوشیوں سے محروم ہو جائے تو یہ ہم سب کے لیے افسوسناک ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘