بلوچستان کی سیاست میں بعض اوقات ایسے واقعات جنم لیتے ہیں جو ماضی کے بیانات کو حال کی حقیقت بنا دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: ممبر اسمبلی علی مدد جتک کی ریلی کے قریب دھماکا، ایک شخص جاں بحق
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی علی مدد جتک کا وہ جملہ ’قیامت کی نشانی ہے میں وزیر داخلہ بنوں‘ جو کچھ عرصہ قبل ایک غیر سنجیدہ سوال کے جواب میں کہا گیا تھا آج صوبائی سیاست میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔
گزشتہ روز گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہونے والی ایک سادہ مگر پروقار تقریب میں علی مدد جتک نے صوبائی وزیر کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ اگرچہ تاحال ان کے بطور وزیر داخلہ تقرر کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق جلد ہی انہیں محکمہ داخلہ کا قلمدان سونپ دیا جائے گا۔
یہ تقرری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچستان کا محکمہ داخلہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے عملی طور پر بغیر مستقل وزیر کے چلایا جا رہا تھا۔
اگست 2024 میں الیکشن ٹریبونل کی جانب سے سابق وزیر داخلہ میر ضیا لانگو کو ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد یہ اہم ترین وزارت براہ راست وزیر اعلیٰ بلوچستان کے پاس رہی۔
مزید پڑھیے: بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل: سپریم کورٹ نے علی مدد جتک کی رکنیت بحال کردی
صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، دہشتگردی کے واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کے باوجود مستقل وزیر داخلہ کا تقرر نہ ہونا اپوزیشن کی جانب سے بھی شدید تنقید کا باعث بنتا رہا۔
اس سوال پر وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کے سینئر صحافی سید علی شاہ کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے سیکیورٹی حملوں کے بعد حکومت بلوچستان کو ایک ایسے سیاسی چہرے کی فوری ضرورت تھی جو نہ صرف محکمہ داخلہ کی نمائندگی کر سکے بلکہ میڈیا کے سامنے حکومتی مؤقف کا دفاع بھی کر سکے۔
ان کے مطابق علی مدد جتک کا نام پہلے ہی سیاسی حلقوں میں گردش کر رہا تھا۔ وہ ماضی میں صوبائی وزیر زراعت رہ چکے ہیں تاہم بعد ازاں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے قریب سمجھے جانے والے علی حسن زہری کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے انہیں وزارت سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد علی مدد جتک طویل عرصے تک بغیر کسی قلمدان کے رہے۔
سیاسی مبصرین علی مدد جتک کی متوقع تقرری کو ایک انتظامی فیصلے سے زیادہ سیاسی ایڈجسٹمنٹ قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان اس وقت جس نوعیت کے سیکیورٹی بحران، انٹیلیجنس ناکامیوں اور گورننس کے مسائل سے دوچار ہے ان کے حل کے لیے ایک مضبوط، بااختیار اور تجربہ کار وزیر داخلہ کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کی سیاست میں ہلچل، کیا وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی تبدیلی قریب ہے؟
سید علی شاہ کے مطابق علی مدد جتک کے وزیر داخلہ بننے سے صوبے کے مجموعی حالات میں کسی نمایاں بہتری کے امکانات کم نظر آتے ہیں کیونکہ مسئلہ افراد سے زیادہ پالیسی اور اختیار کا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ علی مدد جتک اپنے ہی بیان کو غلط ثابت کر پاتے ہیں یا نہیں۔ آیا وہ محکمہ داخلہ کو فعال بنا کر امن و امان کی صورتحال میں بہتری لا سکیں گے یا یہ تقرری بھی بلوچستان کی سیاست میں محض ایک علامتی قدم ثابت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: پیپلز پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم کرنے کی کوششیں تیز، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی مدت مکمل کرسکیں گے؟
فی الحال تو اتنا ہی طے ہے کہ ایک جملہ جو کبھی مذاق سمجھا گیا تھا آج اقتدار کی حقیقت بن چکا ہے اور یہی بلوچستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے۔














