وزیراعظم، صدر اور وزرا کے لیے گریجویشن لازمی قرار دینے کی تجویز کا بل واپس لے لیا گیا

منگل 3 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کے وزیر اعظم، صدر، وزرائے مملکت اور صوبائی وزرا اور دیگر کے لیے گریجویشن کو لازمی تعلیمی اہلیت قرار دینے کی تجویز کے بل کو  سینیٹ کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 25 (شہریوں کی مساوات) سے متصادم قرار دے دیا جس پر سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بل واپس لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں: تولیدی صحت کی تعلیم نصاب میں شامل کی جائے گی، پاکستان سینیٹ نے بل پاس کرلیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹر فاروق حمید نائیک کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے 9 ستمبر 2024 کو سینیٹ میں پیش کیے گئے آئین (ترمیمی) بل 2024 (آرٹیکل 62 میں ترمیم) پر مزید غور کیا۔

مجوزہ ترمیم کے تحت صدر پاکستان، وزیرِ اعظم، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور صوبائی وزرا کے لیے گریجویشن کو لازمی تعلیمی اہلیت قرار دینے کی تجویز دی گئی تھی۔ بل کی محرک نے مؤقف اختیار کیا کہ اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز افراد پر بھاری آئینی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، اس لیے اہلیت کے معیار کو بلند کیا جانا چاہیے۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ تمام صوبائی حکومتوں کی جانب سے موصول ہونے والے جوابات میں اس مجوزہ ترمیم کی مخالفت کی گئی ہے اور اسے آئین کے آرٹیکل 25 (شہریوں کی مساوات) سے متصادم قرار دیا گیا ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے رائے دی کہ اس نوعیت کی تعلیمی شرط آئینی مساوات کے اصول کو متاثر کر سکتی ہے۔

سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ ریاستیں ڈگریوں کے بجائے دانش، تجربے اور وژن سے چلتی ہیں اور تعلیم اور اہلیت میں فرق ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: کتابوں پر پلاسٹک کور کی روک تھام کا بل سینیٹ کمیٹی سے متفقہ منظور

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بل کی نیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد طرز حکمرانی کو بہتر بنانا تھا تاہم صوبوں کے مؤقف اور کمیٹی کے مجموعی احساس کو مدنظر رکھتے ہوئے رکنِ انچارج نے بل واپس لے لیا۔

اجلاس میں سینیٹر ذیشان خانزادہ خان کی جانب سے 19 مئی 2025 کو پیش کیے گئے آئین (ترمیمی) بل 2025 (آرٹیکل 228 میں ترمیم) اور آئین (ترمیمی) بل 2025 (آرٹیکل 153 میں ترمیم) پر بھی غور کیا گیا، جن کا مقصد آئینی اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا تھا۔

آرٹیکل 228 سے متعلق بل پر اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے جواب کا جائزہ لیا گیا جس میں واضح کیا گیا کہ آئین خواتین کی بطور رکن تقرری سے نہیں روکتا اور کم از کم ایک خاتون رکن کی شمولیت پہلے ہی یقینی ہے۔

سی آئی آئی کے مطابق مطلوبہ اہلیت رکھنے والی خواتین کی تقرری آئینی ترمیم کے بغیر ممکن ہے، لہٰذا اس حوالے سے ترمیم غیر ضروری قرار دی گئی۔

اسی طرح آرٹیکل 153 کے تحت کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) سے متعلق ترمیمی بل پر متعلقہ وزارت نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین وزیر اعظم کو اہل خواتین کو سی سی آئی کا رکن نامزد کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس حوالے سے کوئی آئینی پابندی موجود نہیں۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مجوزہ ترمیم کی ضرورت نہیں۔

کمیٹی نے دونوں بلوں کو اس سفارش کے ساتھ نمٹا دیا کہ انہیں ایوان سے منظور نہ کیا جائے۔

اجلاس میں سینیٹر سرمد علی کی جانب سے 19 جنوری 2026 کو پیش کیے گئے فیملی کورٹس (ترمیمی) بل 2026 پر بھی غور کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سینیٹ کمیٹی برائے دفاع کا اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا جامع معائنہ

شق وار جائزے کے دوران سیکشن 9 میں مجوزہ ترمیم واپس لے لی گئی جبکہ سیکشن 11 میں ترمیم منظور کر لی گئی۔ مزید برآں یہ شق شامل کی گئی کہ خاندانی عدالتیں فریقین کی رضامندی اور عدالتی صوابدید کے تحت بیانات کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت دے سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

افغانستان کے بعد ایرانی سرحد پر راہداری نظام ختم کرنے کا فیصلہ، کاروباری طبقے پر ممکنہ اثرات پر تشویش

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی حکومت کو زیادہ وقت دے رہے ہیں یا پارٹی کو؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ