وفاقی آئینی عدالت نے سینیئر صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق ازخود نوٹس اور تمام دائر درخواستیں نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان اور کینیا کی حکومتیں اس معاملے پر مناسب اور مؤثر اقدامات کر رہی ہیں، اس لیے اس مرحلے پر عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ارشد شریف قتل کیس آخری مراحل میں، وفاقی آئینی عدالت کا کیس نمٹانے کا عندیہ
وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف قتل کیس میں پاکستان اور کینیا کے درمیان باہمی قانونی معاونت کے معاہدے (ایم ایل اے) پر دستخط ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک اس کیس میں تعاون کر رہے ہیں۔ عدالت کے مطابق تحقیقات کا عمل متعلقہ حکومتی اور قانونی فورمز پر جاری ہے، جس میں عدالتی مداخلت فی الوقت ضروری نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت صحافتی برادری اور عوام کے اس دکھ اور تشویش کو سمجھتی ہے جو ارشد شریف کے قتل کے باعث پیدا ہوئی، تاہم آئینی دائرہ اختیار کے تحت عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ کیس میں مزید کارروائی کے لیے حکومتی اقدامات ہی موزوں راستہ ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ ارشد شریف کے ورثا کسی بھی مرحلے پر اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ عدالتوں یا فورمز سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ازخود نوٹس سمیت تمام متعلقہ درخواستیں نمٹا دینے کا حکم دے دیا۔














