وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی ملاقات دونوں رہنماؤں کی باہمی خواہش پر ہوئی جس میں سیکیورٹی اور مالی امور پر تفصیلی گفتگو اور مکمل اتفاق رائے پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی اور طالبہ کا دلچسپ مکالمہ، سوال کرپشن جواب جماعتی وابستگی و دیگر صوبے
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی جس میں امن و امان اور فنڈز کے معاملات زیرِ بحث آئے۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے اس موقعے پر کہا کہ سول لا اینڈ آرڈر اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے جس پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو منظم کیا جا رہا ہے اور پولیس کی استعداد کار بھی بہتر بنائی جا رہی ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات!
ملاقات میں مزمل اسلم، رانا ثنا ء اللہ اور امیر مقام بھی موجود! pic.twitter.com/H8SV4nBtDf— WE News (@WENewsPk) February 2, 2026
رانا ثنا اللہ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا کے فنڈز، تیراہ کے رہائشیوں کی نقل مکانی اور این ایف سی ایوارڈ سے متعلق امور بھی وزیراعظم کے سامنے رکھے جنہیں وزیراعظم نے تحمل سے سنا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے وسائل محدود ہیں اور وفاق کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پہلی اہم ملاقات، کیا کچھ زیر بحث آیا؟
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خلاف واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے مطابق دہشت گرد ہمارے بہن بھائیوں کے قاتل ہیں اور ان کے لیے کسی قسم کی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ وہ متعدد بار شہدا کے جنازوں میں شرکت کر چکے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ صوبے کے مسائل اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر بات ہوئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی pic.twitter.com/uMLKG4DDbu
— WE News (@WENewsPk) February 2, 2026
سیاسی امور پر گفتگو کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مذکورہ ملاقات میں سیاسی معاملات پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
28 ویں ترمیم بجٹ سے پہلے؟
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 28 ویں آئینی ترمیم کے بجٹ سے پہلے آنے کے امکانات موجود ہیں تاہم اس کا انحصار فریقین کے درمیان اتفاق رائے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایک بڑا معاملہ ہے جس پر وفاق اور صوبوں کے درمیان فنڈز کی منصفانہ تقسیم کے لیے اتفاق ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی نے رات گئے اڈیالہ جیل کے باہر سے دھرنا ختم کیوں کیا؟
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ آئندہ دنوں میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق چند امور پر بھی بات چیت متوقع ہے جو وقت کے ساتھ آگے بڑھے گی۔














