ہر سال کینسر کے لاکھوں مریضوں کو بچایا جاسکتا ہے، عالمی رپورٹ

منگل 3 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سائنسدانوں کی پہلی جامع عالمی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 70 لاکھ افراد کو کینسر سے بچایا جا سکتا ہے کیونکہ کینسر کے ایک بڑے حصے کی وجوہات قابل تدارک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تھائرائیڈ کینسر: خواتین میں 3 گنا زیادہ خطرہ، محفوظ کیسے رہیں؟

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق 37 فیصد کینسر ایسے عوامل کی وجہ سے ہوتے ہیں جن سے بچاؤ ممکن ہے جن میں انفیکشنز، غیر صحت بخش طرزِ زندگی اور ماحولیاتی آلودگی شامل ہیں۔

ان میں ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) سے ہونے والا سروائیکل کینسر شامل ہے جس سے ویکسینیشن کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے جبکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے متعدد کینسر بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ کینسر عمر بڑھنے کے ساتھ ڈی این اے میں ہونے والی قدرتی تبدیلیوں یا موروثی وجوہات کے باعث ناگزیر ہوتے ہیں، تاہم تقریباً ہر 10 میں سے 4 کینسر قابل تدارک ہیں جو ایک نمایاں اور حیران کن تعداد ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے کینسر کے خطرے میں اضافے کے 30 قابل تدارک عوامل کا تجزیہ کیا۔

ان عوامل میں تمباکو نوشی، الٹرا وائلٹ شعاعیں، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور فضائی آلودگی شامل ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر کینسر کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔

رپورٹ میں کینسر پیدا کرنے والے 9 انفیکشنز کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں ایچ پی وی، ہیپاٹائٹس وائرس (جگر کے کینسر کا سبب) اور معدے کا بیکٹیریا شامل ہے۔

تحقیق کے لیے سنہ 2022 میں سامنے آنے والے کینسر کیسز اور اس سے ایک دہائی قبل موجود خطرے کے عوامل کا ڈیٹا استعمال کیا گیا جو دنیا کے 185 ممالک پر محیط تھا۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کینسر کے ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد کیسز میں سب سے بڑی وجوہات یہ رہیں:

تمباکو نوشی: 33 لاکھ کیسز

انفیکشنز: 23 لاکھ کیسز

شراب نوشی: 7 لاکھ کیسز

تحقیق میں صنفی فرق

تحقیق میں صنفی فرق بھی سامنے آیا ہے جہاں مردوں میں 45 فیصد جبکہ خواتین میں 30 فیصد کینسر قابل تدارک قرار دیے گئے جس کی ایک بڑی وجہ مردوں میں تمباکو نوشی کی زیادہ شرح ہے۔

یورپ میں خواتین کے لیے ان کینسزر (قابل تدارک) کی بڑی وجوہات میں تمباکو نوشی، انفیکشنز اور موٹاپا شامل ہیں جبکہ سب صحارا افریقہ میں خواتین میں تقریباً 80 فیصد قابل تدارک کینسر انفیکشنز کے باعث ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر سے بچاؤ کے لیے اقدامات ہر ملک اور خطے کی صورتحال کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہے۔

آئی اے آر سی کے ڈپٹی ہیڈ ڈاکٹر ازابیل سورجوماٹارام کے مطابق یہ تحقیق قابلِ تدارک کینسر پر پہلی جامع عالمی تشخیص ہے، جو رویوں، ماحول اور پیشہ ورانہ خطرات کے ساتھ ساتھ انفیکشنز کو بھی شامل کرتی ہے۔

سروائیکل، معدے اور پھیپھڑوں کا کینسر

ڈبلیو ایچ او کے ماہر ڈاکٹر آندرے اِل باوی نے رپورٹ کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو کنٹرول اورایچ پی وی ویکسینیشن جیسی پالیسیوں کے ذریعے کینسر کے کیسز میں نمایاں کمی ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقصد یہ ہے کہ قابل تدارک کینسر کی شرح کو وقت کے ساتھ صفر کے قریب لایا جائے۔

رپورٹ کے مطابق پھیپھڑوں کا کینسر، معدے کا کینسر اور سروائیکل کینسر دنیا بھر میں قابل تدارک کینسر کے تقریباً نصف کیسز پر مشتمل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ایس ایل 11، کراچی کنگز نے معین علی کو اسکواڈ میں شامل کرلیا

قازقستان کا پاکستان سے 50 ہزار ٹن آلو منگوانے کا ارادہ

میں اور بھائی والد سے ملنے آنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ویزا نہیں دے رہی، عمران خان کے بیٹےکا شکوہ

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر ملاقات ضرور ہوگی، وقت اور جگہ کا تعین تاحال نہیں ہوا، رانا ثنااللہ

ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

پورا پاکستان بھی اگر بسنت فیسٹیول منانے لاہور آجائے تو ہم ٹریفک کنٹرول کر لیں گے ۔سی ٹی او لاہور اطہر وحید

پاکستان اور امریکا ایران مذاکرات، پی ٹی آئی احتجاج اور بھارت میچ بائیکاٹ کی اپ ڈیٹ

وی ایکسکلوسیو: دہشتگردی کے خلاف لڑائی کسی فرد یا ادارے کی نہیں پوری قوم کی جنگ ہے، انوارالحق کاکڑ

کالم / تجزیہ

فاطمہ بھٹو کس قیامت سے گزریں؟

حادثے سے بڑا سانحہ

اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟