قومی احتساب بیورو نے منگل کے روز ایک جرات مندانہ دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران مجموعی طور پر 29 لاکھ 80 ہزار ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرائی گئی، جس کی مالیت 5 ہزار 976 ارب روپے بنتی ہے، جبکہ 89 ارب 68 کروڑ روپے نقد رقم بھی برآمد کی گئی۔
نیب کی سالانہ رپورٹ 2025 پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے بتایا کہ ادارے نے مجموعی طور پر 6 ہزار 213 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی، جو 1999 میں نیب کے قیام کے بعد کسی ایک سال میں سب سے بڑی ریکوری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2025 میں 6 کھرب روپے سے زیادہ کی ریکوری کی، چیئرمین نیب نے سالانہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی
منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات سے متعلق سوال پر سہیل ناصر نے بتایا کہ نیب بیرونی ممالک کو میوچل لیگل اسسٹنس کے تحت خطوط ارسال کرتا ہے، تاہم کئی برس گزرنے کے باوجود اکثر ممالک کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ بعض ممالک پاکستانی رقوم کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بنے ہوئے ہیں اور پاکستان منی لانڈرنگ کا شکار ملک ہے۔
ڈی جی نیب امجد مجید اولکھ نے بتایا کہ واگزار کرائی گئی 29 لاکھ 80 ہزار ایکڑ زمین میں 26 لاکھ 50 ہزار ایکڑ جنگلاتی اراضی شامل ہے، جس کی مالیت 5 ہزار 104 ارب روپے ہے، جبکہ ریونیو ڈیپارٹمنٹس کی 3 لاکھ 44 ہزار 77 ایکڑ زمین کی مالیت 834 ارب روپے ہے۔
سال 2025 میں قومی احتساب بیورو نے 6213 ارب روپے (62 کھرب 13 ارب روپے) کی ریکارڈ ریکوری کے ذریعے قومی وسائل کے تحفظ اور شفاف احتساب کے عمل کو مؤثر بنایا، جبکہ گزشتہ تین برسوں میں مجموعی وصولی 11524 ارب روپے (41 ارب ڈالر) تک پہنچ گئی۔ pic.twitter.com/E86tfWuv6t
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) February 3, 2026
اس کے علاوہ اسلام آباد کے سیکٹر ای-11 میں واقع 51 کنال گولڑہ کی زمین، جس کی قیمت 29 ارب روپے ہے، بھی سرکاری تحویل میں لی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کوہستان اسکینڈل میں بھی 26 ارب 44 کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جعلی ہاؤسنگ اور سرمایہ کاری اسکیموں کے 1 لاکھ 15 ہزار 587 متاثرین کو 180 ارب روپے کی ادائیگی کے ذریعے ریلیف فراہم کیا گیا۔ نیب کی تاریخ میں پہلی بار نیشنل بینک آف پاکستان کے ساتھ معاہدے کے تحت 2 ارب 80 کروڑ روپے براہ راست 12 ہزار 892 متاثرین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔
سالانہ رپورٹ کے مطابق نیب سکھر نے 16 لاکھ 30 ہزار ایکڑ زمین، جس کی مالیت 3 ہزار 730 ارب روپے ہے، واگزار کرائی، جبکہ نیب بلوچستان نے 10 لاکھ 20 ہزار ایکڑ زمین 1 ہزار 374 ارب روپے مالیت کے ساتھ بازیاب کرائی۔
مزید پڑھیں: کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل: نیب نے پلی بارگین کے تحت ساڑھے 4 ارب روپے ریکور کرلیے
اسی طرح نیب ملتان نے 3 لاکھ 30 ہزار ایکڑ زمین، جس کی قیمت 653 ارب 97 کروڑ روپے ہے، واپس دلائی جبکہ اسلام آباد میں 51 کنال قیمتی سرکاری زمین کی بازیابی کے ذریعے اہم قومی اثاثے ریاست کو واپس ملے۔
عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نیب نے منافع بخش اکاؤنٹس قائم کیے تاکہ ریکور شدہ رقوم کی قدر محفوظ رہے اور متاثرین کو ادائیگی کے وقت زیادہ مالی فائدہ حاصل ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں کئی بڑے مقدمات میں نمایاں ریلیف فراہم کیا گیا، جن میں الباری گروپ، ایڈن ہاؤسنگ، اسٹیٹ لائف کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، بی فور یو گلوبل اور اے اے اے ایسوسی ایٹس شامل ہیں، جہاں ہزاروں متاثرین کو اربوں روپے کی رقوم یا پلاٹس واپس کیے گئے۔
مزید پڑھیں: حکومت نیب کے ذریعے سیاسی انتقام اور کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتی، وزیراعظم شہباز شریف
رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیب نے ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت خصوصی سہولت مراکز قائم کیے، جو ارکانِ پارلیمنٹ، سرکاری افسران، کاروباری برادری اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
سال کے دوران آپریشنز ڈویژن کو 23 ہزار 411 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے جانچ پڑتال کے بعد صرف 367 قابلِ سماعت قرار پائیں۔
سال 2025 میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نئی شکایات میں 24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ عوامی عہدے داروں اور کاروباری شخصیات کے خلاف شکایات میں 52 فیصد کمی دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں: نیب کی ریکوری کے اعدادوشمار پر کسی کو شک ہے تو ثبوت دینے کو تیار، ڈی جی وقار چوہان
نیب نے سال کے دوران 191 انکوائریاں اور 65 تحقیقات مکمل کیں، جبکہ 152 انکوائریاں اور 56 تحقیقات دیگر اداروں کو منتقل یا بند کی گئیں۔ رپورٹ میں جاری انکوائریوں اور تحقیقات میں 12.4 فیصد کمی اور مخبروں کی جانب سے دی جانے والی شکایات میں 41 فیصد اضافہ بھی سامنے آیا۔
مزید بتایا گیا کہ تحقیقات میں مصنوعی ذہانت، بلاک چین تجزیہ اور ڈیجیٹل فرانزک ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے، جو پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی کے تحت مربوط نظام کا حصہ ہے۔
اب تک اکیڈمی 42 تربیتی کورسز اور تقریبات منعقد کر چکی ہے، جن کا مقصد تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کی فنی اور انتظامی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔













