لاہور میں 3 روزہ بسنت فیسٹیول کی آمد کے پیش نظر انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم نے بسنت کے محفوظ اور پُرامن انعقاد کے لیے ضابطۂ اخلاق کی سختی سے پابندی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ صرف رجسٹرڈ پتنگ فروشوں کو ہی منظور شدہ پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے لاہور پولیس کو ہدایت کی کہ پتنگوں اور ڈور کی خرید و فروخت، نیز بسنت سے متعلق حکومتی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں بسنت کی ہرگز اجازت نہیں، پتنگ بازی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور
راؤ عبدالکریم نے واضح کیا کہ بسنت کے موقع پر ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش، فحاشی اور غیر اخلاقی رویوں پر قانون فوری حرکت میں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر میں انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے، جبکہ لاہور میں بھی سخت حکومتی شرائط اور قوانین کے تحت صرف مخصوص دنوں میں ہی بسنت منانے کی اجازت دی گئی ہے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت صوبہ بھر میں انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 150 مقدمات درج کیے گئے اور 157 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے 39 ہزار 667 غیر منظور شدہ پتنگیں اور 248 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: بسنت: لاہور میں ڈرون سے نگرانی، چھتوں کی رجسٹریشن اور زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ
ترجمان نے مزید بتایا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں غیر قانونی پتنگوں اور ڈوروں کے کاروبار میں ملوث 67 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 7 ہزار سے زائد پتنگیں اور 41 ڈور چرخیاں برآمد ہوئیں۔
پنجاب پولیس کے مطابق رواں سال صوبہ بھر میں دھاتی ڈور اور غیر قانونی پتنگوں کے کاروبار میں ملوث 3 ہزار 998 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ ان کے قبضے سے 3 لاکھ 25 ہزار سے زائد پتنگیں اور 7 ہزار 374 ڈور چرخیاں برآمد کی گئی ہیں۔














