اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق حکومتی کوششوں میں اب تک کوئی حتمی پیش رفت نہ ہو سکی ہے، حکومت کی جانب سے ایئرپورٹ کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا، تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جس پر یہ معاملہ اب وزارتِ نجکاری کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے سینیٹر شہادت اعوان کے سینیٹ میں کیے گئے سوال کا تحریری جواب دے دیا۔ سوال میں استفسار کیا گیا تھا کہ آیا حکومت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو آؤٹ سورس کرنے کی کسی تجویز پر غور کر رہی ہے، اور اگر ایسا ہے تو اس کی وجوہات اور متوقع فوائد کیا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد ایئرپورٹ آؤٹ سورس: موجودہ ملازمین کہاں جائیں گے؟
خواجہ آصف نے تحریری جواب میں بتایا کہ حالیہ آؤٹ سورسنگ عمل کے دوران ابتدائی طور پر حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر اوپن اور مسابقتی بولی کے ذریعے ایئرپورٹ آؤٹ سورس کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اس عمل میں صرف ایک ہی بولی موصول ہوئی، جسے ریزرو پرائس کے معیار پر پورا نہ اترنے کی بنیاد پر مسترد کر دیا گیا، یوں یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔
وزیرِ دفاع کے مطابق اس کے بعد حکومت نے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ بنیاد پر آؤٹ سورسنگ کا آپشن اپنایا، جو انٹر گورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشن ایکٹ 2022 کے تحت کیا گیا، مگر یہ طریقہ کار بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکا۔
جواب میں مزید بتایا گیا کہ ان تمام ناکام کوششوں کے بعد اب اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ باضابطہ طور پر وزارتِ نجکاری کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد ایئرپورٹ نے مسافروں کی شکایات کے ازالے کے لیے کیو آر کوڈ متعارف کرادیا
ذرائع کے مطابق حکومت ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کو مالی وسائل میں بہتری، انتظامی کارکردگی کے فروغ اور بین الاقوامی معیار کی سہولیات کی فراہمی کے لیے اہم قرار دیتی ہے، تاہم عملی سطح پر بولی کے معیار اور شفافیت سے متعلق چیلنجز تاحال حائل ہیں۔
وزارتِ نجکاری کو منتقلی کے بعد امکان ہے کہ ایئرپورٹ کی نجکاری ہو سکے گی البتہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اداروں اور قومی اثاثوں کی نجکاری کی فہرست میں ابھی تک اسلام آباد ایئرپورٹ کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔














