خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور ن لیگ کی وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات موجود ہیں، لیکن سیاست کے علاوہ بھی وفاق اور صوبے کے درمیان کئی انتظامی اور حکومتی معمولات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان اختلافات اور دوریاں صرف موجودہ دور تک محدود نہیں بلکہ کافی عرصے سے معاشی اور دیگر انتظامی معاملات پر تناؤ رہا ہے۔ ان اختلافات میں وفاق کے ذمے صوبے کے بقایاجات، بجلی کے خالص منافع کی عدم ادائیگی، بجلی کی تقسیم، گیس کی فراہمی، سیکیورٹی پالیسی، افغان امور اور اعلیٰ بیوروکریسی میں تبادلے شامل ہیں۔
شہباز شریف حکومت اور سہیل آفریدی کے اختلافات
سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بننے کے بعد سے ہی وفاقی حکومت کے خلاف سیاسی بیانات دے رہے ہیں، تاہم شدید سیاسی اختلافات کے باوجود گزشتہ روز انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس سے قبل علی امین گنڈاپور بھی وزیراعظم سے ملاقات کر چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پہلی اہم ملاقات، کیا کچھ زیر بحث آیا؟
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، جو اس ملاقات میں موجود تھے، نے ملاقات کو خوشگوار قرار دیا۔ ان کے مطابق ملاقات کے آغاز میں ہی وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن حکومتی ذمہ داریاں الگ ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق صوبائی اور وفاقی حکومت کے اختلافات سیاسی ہیں، جبکہ ریاستی معمولات میں تعاون ضروری ہے، جس کی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔
وفاق کے ذمے صوبے کے واجب الادا فنڈز
خیبر پختونخوا حکومت کا ابتدا سے موقف ہے کہ وفاق مختلف مدات میں صوبے کے بقایاجات ادا نہیں کر رہا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آنے کے بعد اس موقف میں مزید شدت آئی ہے۔
سہیل آفریدی کے مطابق وفاق اس وقت خیبر پختونخوا کا 4,758 ارب روپے کا مقروض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاق میں مختلف سیاسی جماعت کی حکومت ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخوا کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا، جبکہ پنجاب کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا قبائل کے ہمراہ اسلام آباد مارچ کا اعلان، مقصد کیا ہے؟
ان کے مطابق سیاسی اختلافات کی بنیاد پر صوبے کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، اور اگر بقایاجات ادا کر دیے جائیں تو صوبے کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔
گیس اور بجلی کی تقسیم
خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق سے نیشنل گرڈ سے بجلی کی تقسیم پر اختلاف ہے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ صوبے میں لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ وفاق ہے، جو نیشنل گرڈ سے صوبے کی ضرورت کے مطابق بجلی فراہم نہیں کر رہا، جس کے باعث بعض علاقوں میں 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: صوبے اور عوام کی خاطر سب کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہوں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
حکومت کا کہنا ہے کہ سب سے سستی بجلی خیبر پختونخوا میں پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح سردیوں میں گیس کا بھی سنگین مسئلہ درپیش رہتا ہے، حالانکہ صوبے میں گیس پیدا ہوتی ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی نہیں کی جاتی۔
وفاق کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں بجلی چوری ہو رہی ہے اور بلوں کی ادائیگی بھی مکمل نہیں کی جا رہی۔
بجلی کے خالص منافع کی عدم ادائیگی
خیبر پختونخوا کے مطابق وفاق بجلی کے خالص منافع کی مد میں بھی صوبے کو بقایاجات ادا نہیں کر رہا، جو صوبے کے ساتھ ناانصافی ہے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وفاق نہ تو صوبے کو بجلی فراہم کر رہا ہے اور نہ ہی خالص منافع میں صوبے کا حق ادا کیا جا رہا ہے۔ صوبہ متعدد بار نیشنل گرڈ کو بجلی بند کرنے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔
سیکیورٹی پالیسی پر اختلافات
سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ سہیل آفریدی وفاق اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بند کمروں کے فیصلے قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب وفاق، سہیل آفریدی کو امن و امان کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتا ہے۔ سہیل آفریدی کالعدم گروپوں سے مذاکرات کے حامی ہیں، جبکہ ریاستی پالیسی کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، جس پر دونوں کے درمیان اختلاف موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 8 فروری انتخابات کے 2سال: متحارب سیاسی جماعتیں مستقبل کے لیے کیا صف بندی کر رہی ہیں؟
اسی تناظر میں سہیل آفریدی قبائل کے ہمراہ اسلام آباد مارچ کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔
افغانستان سے مذاکرات
خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں امن و امان کی بہتری اور افغانستان سے دہشتگردی کو روکنے کے لیے جرگوں کے ذریعے افغانستان سے مذاکرات کی خواہاں ہے، اور کئی بار افغانستان سے براہِ راست رابطوں کا اعلان بھی کر چکی ہے۔
کیا شہباز شریف سہیل آفریدی ملاقات کے بعد اختلافات ختم ہوں گے؟
ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم کے ساتھ صوبے کے مسائل پر بات ہوئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے مطابق سہیل آفریدی نے امن و امان کے معاملے پر وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
حکومتی حکام اور تجزیہ کار اس ملاقات کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق اس ملاقات سے کئی انتظامی معاملات بہتر ہوں گے، اور وزیراعلیٰ کی ایپکس کمیٹی میٹنگ میں شرکت کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔
تاہم پشاور کے سینیئر صحافی عارف حیات کو معمولات میں بڑی بہتری کی توقع نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبہ دونوں ریاستی معمولات پر سیاست کر رہے ہیں اور سیاسی بیانیہ بنا رہے ہیں، جس سے معاملات خراب ہو رہے ہیں۔
عارف حیات کے مطابق، ‘اندرونی طور پر ملکی سلامتی اور دہشتگردی کے معاملے پر اتفاق موجود ہے، لیکن سیاسی طور پر کارکنوں کے سامنے الگ بیانیہ پیش کیا جاتا ہے۔ سہیل آفریدی آپریشن کے خلاف نظر آتے ہیں، جبکہ اندرونی بریفنگ میں انہیں اصل حقائق سے آگاہ کیا جاتا ہے، جو اس کے برعکس ہوتے ہیں۔’
یہ بھی پڑھیے: وفاق پر خیبر پختونخوا کے 3 ہزار ارب روپے واجب الادا ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
ان کے مطابق کچھ معمولات بہتر ہونے کے امکانات موجود ہیں، وفاق بقایاجات پر بات کرنے کو تیار ہے اور امن و امان پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے، لیکن جو کچھ پی ٹی آئی حکومت چاہتی ہے وہ شاید ممکن نہ ہو۔
عارف حیات نے مزید بتایا کہ جب وفاق میں عمران خان کی حکومت تھی تب بھی بقایاجات موجود تھے اور اس وقت بھی ادا نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق صوبہ وفاق کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا، اور سہیل آفریدی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پہلی ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
‘ایک طرف سہیل آفریدی احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں، دوسری جانب وفاق کو مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروا رہے ہیں، جو ایک تضاد ہے۔’
پشاور کے نوجوان صحافی شہاب الرحمان کے مطابق یہ ملاقات خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سہیل آفریدی واقعی انتظامی معاملات بہتر کرنا چاہتے ہیں تو یہ صوبے کے مفاد میں ہے۔
تاہم شہاب الرحمان کو خدشہ ہے کہ پی ٹی آئی میں اس کا غلط تاثر لیا جا سکتا ہے، جس سے سہیل آفریدی کی کرسی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جیسا کہ علی امین گنڈاپور کے ساتھ ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبے کے بہتر تعلقات سے خیبر پختونخوا میں بہتری آ سکتی ہے۔














